Comments on post titled کبھی تو شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے
کسی کی آنکھ میں رہ کر سنور گئے ہوتے
سنگار دان میں رہتے ہو آئنے کی طرح
کسی کے ہاتھ سے گر کر بکھر گئے ہوتے
غزل نے بہتے ہوئے پھول چن لیے ورنہ
غموں میں ڈوب کر ہم لوگ مر گئے ہوتے
عجیب رات تھی کل تم بھی آ کے لوٹ گئے
جب آ گئے تھے تو پل بھر ٹھہر گئے ہوتے
بہت دنوں سے ہے دل اپنا خالی خالی سا
خوشی نہیں تو اداسی سے بھر گئے ہوتے (updated 72 months ago) | Damadam