Comments on post titled سزا کے دن ہیں
میں سوچتا ہوں
زمین فاقے سے مرنے والوں کی اجتماعی لحد سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے
کوئی بھی آفت دلوں میں پلتے حسد سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے
کسی بھی اجڑے دیار کا دکھ
ترے تبسم کو ڈھونڈتے خال و خد سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے
دُعا کے دن ہیں
میں بولتا ہوں
مری مناجات سن کے شب کی
ضعیف پیشانی جُھک گئی ہے
سوال کے پیرہن میں لپٹی پکار بھی تا اُفُق گئی ہے
ہمارے ہاتھوں کے درمیاں جتنا فاصلہ ہے
دعا اثر سے بس اتنی دوری پہ رُک گئی ہے
خدا کے دن ہیں
میں جانتا ہوں
زمین کے خلق ہونے پر جتنا خرچ آیا
خدا نے سارا ادا کیا تھا
اسی تعاون کے پیش منظر میں ساری خلقت نے اس کو اپنا خدا کیا تھا
اُسی نے یہ فیصلہ کیا تھا
کہ جب بھی چاہے گا بستیوں کو اجاڑ دے گا
چھڑائے گا ہاتھ اور دلوں کو اجاڑ دے گا.🍂 (updated 64 months ago) | Damadam