Comments on post titled ارادہ روز کرتا ہوں مگر کچھ کر نہیں سکتا
میں پیشہ ور فریبی ہوں محبت کر نہیں سکتا
برے ہوں یا کہ اچھے ہوں مجھے اِس سے نہیں مطلب
مجھے مطلب سے مطلب ہے میں تم سے لڑ نہیں سکتا
یہاں ہر دوسرا انساں خدا خود کو سمجھتا ہے
خدا بھی وہ کہ جو اپنی ہی جھولی بھر نہیں سکتا
میں تم سے صاف کہتا ہوں مجھے تم سے نہیں الفت
فقط لفظی محبت ہے میں تم پہ مر نہیں سکتا
محبت کی مسافت نے بہت زخمی کیا مجھ کو
ابھی یہ زخم بھرنے ہیں میں آہیں بھر نہیں سکتا
بھلے میں نے نہیں چاہا مگر تم نے تو چاہا ہے
تمہاری یاد کو دِل سے تو باہر کر نہیں سکتا
نا جانے آدمی کیوں آدمی سے خوف کھاتا ہے
جو اپنے رب سے ڈرتا ہو کسی سے ڈر نہیں سکتا
ارے او عشق!!! چل جا کام کر کس کو بلاتا ہے؟
حُسن بازار میں بکتا ہے سولی چڑھ نہیں سکتا
یہاں ہر ایک چہرے پر الگ تحریر لکھی ہے
میری آنکھوں میں آنسو ہیں ابھی کچ (updated 74 months ago) | Damadam