Comments on post titled *_کبھی کبھی دل کرتا ہے یونہی کسی شام ساحل پر بیٹھ کر گھنٹوں پانیوں کے شور کو سنوں ؛ لہروں کی موجوں کو دیکھوں اور آنکھیں بند کر کے اس گیلی مٹی کی خوشبو اپنے وجود میں اتار لوں اور پھر جب سورج غروب ہونے لگے تو میں اس ڈھلتی روشنی میں شام کے عکس کو نگاہوں میں قید کر کے ساحل کے سکوت کو محسوس کروں...._*
*_بس کبھی کبھی دل کرتا ہے ساحل کے کنارے بیٹھ کر اپنی سمت آتی لہروں میں اپنے سارے دکھ درد بہا دوں؛؛ اور وہ لہریں اپنے ساتھ میری تمام اداسیوں کو میرے پیروں سے ٹکرا کر بہا کر لے جائیں (updated 70 months ago) | Damadam