Comments on post titled "قبول ہے"
بوقت رخصت
ہجر کی دلہن کے بازو پہ سیاہ پٹی باندھ دی گئ
آنکھوں سے نکلتے ہوئے نیر بتا رہے تھے
یہ لوگ بے وجہ ایکدوسرے سے بیاہے گئے
ان کے خواب اجداد کی دستاروں میں دفنائے گئے
کوئ بھی خوش نہیں تھا
فقط اداسی تھی جو منہ چڑھا رہی تھی
اور وہ پری رو قبول ہے پڑھ کے "آمین" کہہ رہی تھی
کون جانتا تھا ؟؟
کہ گھر کی چوکھٹ سے باہر نکلتے وقت
کونسا دکھ تھا جو اژدھا بن کے بدن کو لپیٹ رہا تھا
آنکھوں سے نکلنے والی آنسوؤں کی جھڑی کس اپنے سے دور ہونے پہ گالوں کو تر کر رہی تھی
بہرکیف !!
بوقت رخصت !
"محبت" اپنے قد سے نیچی تھی لیکن
انا کے سائے میں بزرگوں کی پگڑی بہت اونچی تھی !! (updated 71 months ago) | Damadam