Comments on post titled الجھنوں کی بھیڑ میں لا پتہ ہے زندگی جانے کتنے راستوں سے آشنا ہے زندگی کوئی منزل پر پہنچ کر بھی رہا محو سفر کوئی ہراک راستے میں دیکھتا ہے زندگی میری نظریں آ کے رک جاتی ہے میرے ہاتھ پہ کیالکیروں میں بھی کچھ لکھا ہوا ہے زندگی میں شب ہجراں میں اکثر سوچتی ہوں بیٹھ کر مجھکو جو کچھ بھی ملا کیا بس یہی ہے زندگی (updated 72 months ago) | Damadam