Comments on post titled چلتے پھرتے ہوئے لوگ کم ہوگئے صرف کتبوں پہ نام و نشاں رہ گیا
ایک چہرہ جو آنکھوں کی بینائی تھا کس سے پوچھیں گے اب وہ کہاں رہ گیا
اپنی آنکھوں کو دہلیز پر چھوڑ کر سب مقیں مشترک غم لیے سو گئے
منتظر کھڑکیوں کو سمیٹے ہوئے بین کرتا سسکتا مکاں رہ گیا (updated 65 months ago) | Damadam