Comments on post titled جب دیواروں سے دھوپ اترے آنکھوں میں سمندر آج بھی ہو
وہ شام کہ جب ہم بچھڑے تھے، اس شام کا منظر آج بھی ہو
اے کاش وہ دن پھر لوٹ آئیں، پھر چاک گریباں خاک بہ سر
کوچے میں ترے آوارہ پھروں اور ہاتھ میں ساغر آج بھی ہو
بادل برسیں بجلی کڑکے تو مجھ سے لپٹ جائے ڈر کے
برسات کی بھیگی راتوں میں ترا قرب میسر آج بھی ہو
نادان کو کیسے سمجھاوں، یہ دل تو ابھی بھی چاہتا ہے
کشتی ہو، ندی کی لہریں ہوں، شانے پہ ترا سر آج بھی ہو
دنیا نے ہمیں ملنے نہ دیا، بچھڑے بھی زمانہ بیت گیا
تم کال بھی جان سے پیاری تھیں، تم جان سے بڑھ کر آج بھی ہو
اتنا نہ ہوا تم سے مہدی ہونٹوں سے لگا لو ساغر کو
تم دست بہ ساغر کل بھی تھے تم دست بہ ساغر آج بھی ہو (updated 45 months ago) | Damadam