Comments on post titled پکڑنا صبر کا دامن غم بہول جانا
زندگی ایک ملتی ہے اسےنہ گوانہ
تکلیفین مہمان ہے کچھ دنو کی
اپنے روشن گھر کا دیا نہ بجہانہ
یہ اداسی مایوسی کو چھوڑ کر
تم بس خوشیوں کو ہی اپنانا
آپ کا دکھ نہیں سمجھ سکتہ
کوئی دل کا حال کسے مت سنانا
کرے گلہ کسی اور کی آپ سے
تو اس کو کبھی پاس مت بٹھانا
آپ کے آنے سے جو تنگ ہو جائے
اس کے گھر تم پھر کبھی نا جانا
خدمت خلق کرنا بہی عبادت ہے
مقصد کے لے کسی کو نا دکھانا
شاعر عدنان اداس لغاری (updated 45 months ago) | Damadam