Comments on post titled کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
زخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا
تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر
ڈوب کر بھی ترے دریا سے میں پیاسا نکلا
جب کبھی تجھ کو پکارا مری تنہائی نے
بو اڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا
کوئی ملتا ہے تو اب اپنا پتہ پوچھتا ہوں
میں تری کھوج میں تجھ سے بھی پرے جا نکلا
مجھ سے چھپتا ہی رہا تو مجھے آنکھیں دے کر
میں ہی پردہ تھا اٹھا میں تو تماشا نکلا
توڑ کر دیکھ لیا آئینۂ دل تو نے
تیری صورت کے سوا اور بتا کیا نکلا
نظر آیا تھا سر بام مظفرؔ کوئی
پہنچا دیوار کے نزدیک تو سایا نکلا🔥 Mahii 💔 (updated 51 months ago) | Damadam