Comments on post titled اس لئے آپ کو بھیجا-سادہ کاغذ
کو ئی بھی حرف منا سب سا میسر ہی نہ تھا.
اجنبی جیسے تھے انداز تخاطب سارے
کو ئی پیکر بھی مری سوچ سا پیکر ہی نہ تھا.
کتنے القاب تھے!
لکھ لکھ کے مٹا ئے ہم نے
کتنے اوراق لکھے، پھاڑے ، جلا ئے ہم نے.
دل کی ضد برتا ہوا حرف نہ برتا جائے
اک الگ سب سے کوئی لفظ ترا شا جائے.
آپ پابندی آداب کی شرطیں رکھیں
دل گراں بارئ الفاظ سے الجھا جائے.
سو چتے سوچتے بس سادہ ورق بھیج دیا
آپ ہی لکھئے.
کہ کیا آپ کو لکھا جائے🔥 Mahii 💔 (updated 50 months ago) | Damadam