Comments on post titled رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا
اپنا ہونا اور نہ ہونا مبہم تھا
اک گل تنہائی تھاجو ہمدم تھا
خاروغبار کا سرمایہ بھی کم کم تھا
آنکھ سے کٹ کٹ جاتے تھے سارے منظر
رات سے رنگ دیدہ حیراں برہم تھا
جس عالم کو٫ ہو ،کا عالم کہتے ہیں
وہ عالم تھا اور وہ عالم پیہم تھا
خار خمیدہ سر تھے بگولے بے آواز
صحرا میں بھی آج کسی کا ماتم تھا🔥 Mahii 💔 (updated 49 months ago) | Damadam