Comments on post titled گِر جاتا ہوں ہر موڑ پہ سنبھلنا نہیں آتا مجھے
رستہ بھی وہی ہے بس چلنا نہیں آتا مجھے
بدلنے چلا ہوں میں ذمانے شاید پر خود کی ذات کو بدلنا نہیں آتا مجھے
سبھی رنگوں میں تیری ہی ذات چھپی ہے بس افسوس کے کسی ایک میں بھی ڈھلنا نہیں آتا مجھے
میں اتنا کھو گیا ہوں اس دو دن کی دنیا میں عباس!
کے آج اس سے باہر نکلنا نہیں آتا مجھے (updated 33 months ago) | Damadam