Comments on post titled اے دل ان آنکھوں پر نہ جا
جن میں وفور رنج سے
کچھ دیر کو تیرے لیے
آنسو اگر لہرا گئے
یہ چند لمحوں کی چمک
جو تجھ کو پاگل کر گئی
ان جگنوؤں کے نور سے
چمکی ہے کب وہ زندگی
جس کے مقدر میں رہی
صبح طلب سے تیرگی
کس سوچ میں گم سم ہے تو
اے بے خبر ناداں نہ بن
تیری فسردہ روح کو
چاہت کے کانٹوں کی طلب
اور اس کے دامن میں فقط
ہمدردیوں کے پھول ہیں
احمد فراز (updated 25 months ago) | Damadam