Comments on post titled نصیر احمد ناصر
ہم اکتوبر میں ملے
جب پتے درختوں سے
الگ ہونے کی تیاری کر رہے تھے
ہم اکتوبر میں ملے
جب دھوپ نرم پڑ چکی تھی
اور آسمان
سفید بادلوں کے مرغولوں سے
چمک رہا تھا
ہم اکتوبر میں ملے
جب پہاڑ
دُور سے بھی صاف دکھائی دے رہے تھے
ہم اکتوبر میں ملے
جب پرندے
پانیوں سے ہم آغوش تھے
اور جھیلیں
ان کی پھڑپھڑاہٹ سے لبالب تھیں
ہم اکتوبر میں ملے
لیکن ہم اکتوبر میں جدا نہیں ہوں گے
کیوں کہ ہماری جڑیں
اپریل میں پیوست ہیں (updated 24 months ago) | Damadam