Comments on post titled وہ کہ کے چلے اتنی ملاقات بہت ہے
میں نے کہا رک جاؤ ابھی رات بہت ہے
آنسو میرے تھم جائیں تو پھر شوق سے جانا
ایسے میں کہاں جاؤ گے برسات بہت ہے
اب دیکھ کے جی گھبراتا ہے
ساون کی سہانی راتوں کو
پیا چھوڑ گئے دل توڑ گئے اب آگ لگے برساتوں کو | Damadam