Comments on post titled چہرے کے خد و خال میں آئینے جڑے ہیں💔
ہم عمر گریزاں کے مقابل میں کھڑے ہیں💔
ہر سال نیا سال ہے ہر سال گیا سال💔
ہم اڑتے ہوئے لمحوں کی چوکھٹ پہ پڑے ہیں💔
دیکھا ہے یہ پرچھائیں کی دنیا میں کہ اکثر💔
اپنے قد و قامت سے بھی کچھ لوگ بڑے ہیں💔
شاید کہ ملے ذات کے زنداں سے رہائی💔
دیوار کو چاٹا ہے ہواؤں سے لڑے ہیں💔
اڑتے ہیں پرندے تو یہاں جھیل بھی ہوگی💔
تپتا ہے بیابان بدن کوس کڑے ہیں💔
شاید کوئی عیسیٰ نفس آئے انہیں پوچھے💔
یہ لفظ جو بے جان سے کاغذ پہ پڑے ہیں💔
اس بات کا مفہوم میں سمجھا نہیں اخترؔ💔
تصویر میں ساحل پہ کئی کچے گھڑے ہیں💔
اختر ہوشیار پوری.g2.g2.g2 (updated 1 day ago) | Damadam