Comments on post titled آنکھیں ہیں کہ اسیر کسی بہر میں عورت
عورت میں بھرا زہر ہے یا زہر میں عورت
ہر طور سے ہے قتل کی تمثیل یہ جس کو
گائوں میں حیاء کہتے ہیں اور شہر میں عورت
جس نہر سے کرتے ہیں وضو شہر کہ عابد
مردہ پڑی ملتی ہے اسی نہر میں عورت
علی یوسف (updated 1 day ago) | Damadam