Comments on post titled گلا کٹا ہوا اور چہرے پر مسکراہٹ 🥹
اسماعیل سمیجو، عمرکوٹ کے موتی چوک کے قریب، بہتے ہوئے خون کو ہاتھ سے روکتے ہوئے کسی شخص سے کہہ رہا ہے کہ میری ویڈیو ریکارڈ کرو….
اس کے چہرے کا اطمینان بتاتا ہے کہ اس کا گلا کاٹنے والا شاید اسماعیل کے لیے کوئی اجنبی نہیں تھا۔
اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ اس کی بہادری کی گواہی دیتی ہے، کیونکہ موت کو سامنے دیکھ کر مسکرانا ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
کیا خبر قاتل کو اسماعیل کی یہ مسکراہٹ ناگوار گزری ہو 😢
لیکن مسکراتے ہوئے موت کو قبول کر کے اس نوجوان نے اپنے قاتل کو شکست دے دی۔
جس کسی نے یہ گھناؤنا کام کیا اور اس کے گلے پر وار کیا، اس نے ظلم کیا ہے 😪
اس نوجوان کو دردناک اذیت دینے کے لیے یہ عمل کیا گیا 😢
لیکن اس بہادر نوجوان کے ہونٹوں کی (updated 2 hours ago) | Damadam
Doremi : لیکن اس بہادر نوجوان کے ہونٹوں کی مسکراہٹ، گلا کاٹنے والے کے لیے زندگی بھر کی اذیت بن جائے گی۔
اسماعیل سمیجو کا قاتل سامنے آنا چاہیے، مسکراہٹ کا قاتل معاف کرنے کے قابل نہیں…!!! 😪😪
سندھ حکومت اور انتظامیہ کی لاپرواہی پر لعنت9 hours ago