Comments on post titled آج سے چودہ سال قبل، 31 جنوری 2012 کو، تقریباً رات ایک بجے کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع گِزری پُل پر پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے فائرنگ کرکے نواب اکبر خان بگٹی کی پوتی اور براہمداغ خان بگٹی کی بڑی بہن، 34 سالہ زامُر بگٹی بنت ریحان بگٹی، ان کی 9 سالہ بیٹی جنت ڈومکی بنت بختیار ڈومکی اور ان کے ڈرائیور برکت بلوچ کو قتل کر دیا۔
اس رات وہ ڈی ایچ اے میں واقع کارلٹن ہوٹل میں اپنے کزن کی شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد اپنے ماموں کے گھر جا رہی تھیں کہ راستے میں گزری پل پر سیاہ رنگ کی ایک گاڑی نے ان کی گاڑی کو روکا۔ اس گاڑی میں سے ایک نقاب پوش شخص اترا اور گاڑی کے ڈرائیور برکت بلوچ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ سر پر متعدد گولیاں لگنے کے باعث برکت بلوچ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
اس کے بعد حملہ آور نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔ (updated 12 hours ago) | Damadam
nadan... : جن کے بچے نہیں بخشے گئے😴😴😴 کیا وہ ان کو بخش دیں گے🥱🥱🥱 بلوچ اور پٹھان اپنے دوست دشمن کبھی نہیں بھولتے🥱🥱🥱2 days ago
nadan... : پولیس آگے بڑھی، مگر قاتلوں کا تعاقب کرنے کے بجائے مقتولین کے زیورات اور دیگر اشیاء چرانے کی کوشش میں مصروف ہو گئی۔ اسی دوران خاندان کے دیگر افراد موقع پر پہنچ گئے اور چیخ و پکار کے ذریعے پولیس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جس کے بعد پولیس پیچھے ہٹ گئی۔2 days ago
nadan... : قاتل نے زامر بگٹی کے سر اور چہرے پر درجن سے زائد گولیاں مار کر انہیں بھی شہید کر دیا۔ واقعے کے وقت ان کے ساتھ موجود 12 سالہ گھریلو ملازم کی بیٹی، جو اس سانحے کی چشم دید گواہ تھی، کو موقع پر چھوڑ کر قاتل فرار ہو گئے۔
واقعے کے وقت پولیس کچھ ہی فاصلے پر کھڑی خاموش تماشائی بنی رہی۔ قاتلوں کے فرار ہونے کے بعد پولیس آگے بڑھی، مگر قاتلوں کا تعاقب کرنے2 days ago
nadan... : ، وہ یہاں انہیں اور ان کی بیٹی کو قتل کرنے آئے ہیں۔
زامر بگٹی نے قاتلوں سے اپنی بیٹی کو چھوڑ دینے کی التجا کی اور کہا کہ چاہیں تو انہیں قتل کر دیں، مگر بچی کو بخش دیں۔ اسی دوران ایک قاتل آگے بڑھا اور اگلی سیٹ پر بیٹھی 9 سالہ جنت ڈومکی کے سینے اور گردن پر اندھا دھند فائرنگ کر کے اسے شہید کر دیا۔
بیٹی کو ماں کے سامنے قتل کرنے کے بعد قاتل نے2 days ago
nadan... : اس کے بعد حملہ آور نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔ اسی دوران دو موٹر سائیکلیں موقع پر پہنچیں اور گاڑی کے دونوں اطراف کھڑی ہو گئیں۔ زامر بگٹی نے اپنے زیورات، موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیاء حملہ آوروں کو پیش کر دیں اور بدلے میں اپنی بیٹی کی جان بخشنے کی درخواست کی، مگر قاتل نے اردو میں جواب دیا کہ انہیں قیمتی اشیاء کی ضرورت نہیں، وہ یہاں انہ2 days ago