Comments on post titled حاصل سے لاحاصل تک وہ شخص جو میرے ہاتھ سے پھسل گیا ۔ وہ صرف ایک انسان نہیں تھا ۔ وہ میری دنیا کا وہ کونا تھا جہاں سكون بستا تھا جہاں ہنسی کی گونج تھا ۔ جہاں ہر دعا کا مرکز تھا ۔ آج ساری کائنات میرے سامنے بچھا دی جائے تب بھی دل کے خالی کمرے میں اس کا عکس یوں گونجے گا جیسے دیواروں پر پرانی تصویریں لٹکی ہوں ۔ اور ان سے خوشبو آتی ہو ۔ میں نے اسے صرف کھویا نہیں ۔ میں نے اپنے آپ کا وہ حصہ بھی کھو دیا ہے ۔ جو اس کے نام پر دھڑکتا تھا
لوگ کہتے ہیں وقت سب زخم بھر دیتا ہے ۔ مگر کچھ زخم اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ وہ بھرنے کے بجائے اندر جڑ پکڑ لیتے ہیں ۔ وہ ہر ہنسی کے بعد یاد آتا ہے ۔ ہر خاموشی میں ہر تنہائی میں اور شاید قیامت تک یاد آتا رہے گا ۔ یہ تڑپ شاید میری سزا بھی ہے اور میری پہچان بھی ۔ کیوں کی کچھ
لوگ زندگی سے نہیں روح سے جدا ہوتے ہیں | Damadam