Comments on post titled لہو سے سینچی ہوئی آرزوئے آزادی
ہزار خوف کے سایوں تلے نہیں مرتی
یہ جان کیا ہے؟ امانت ہے چند سانسوں کی
مگر اصول کی خاطر صدا نہیں مرتی
جلا کے خود کو جو روشن کرے دلوں کی سحر
وہ شمع وقت کی آندھی سے بھی نہیں مرتی
جھکا نہ جس کا علم ظلم کی ہواؤں میں
وہ ایک صدا ہے جو صدیوں کبھی نہیں مرتی (updated 6 days ago) | Damadam