Comments on post titled ہم فقیروں کو مدینے کی گلی اچھی لگی
خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی
دور تھے تو زندگی بے رنگ تھی بے کیف تھی
ان کے کوچے میں گئے تو زندگی اچھی لگی
ہم نہ جائیں گے کہیں بھی در نبی ﷺ کا چھوڑ کر
ہم کو کوئے مصطفی ﷺ کی چاکری اچھی لگی
خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی
ہم فقیروں کو مدینے کی گلی اچھی لگی
رکھ دیا سرکار کے قدموں پہ سلطانوں نے سر
سرور کون و مکاں کی سادگی اچھی لگی
آج محفل میں نیازی نعت جو میں نے پڑھی
عاشقان مصطفیﷺ کو وہ بڑی اچھی لگی
خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی
ہم فقیروں کو مدینے کی گلی اچھی لگی (updated 3 hours ago) | Damadam