Comments on post titled بچے ہماری ادھوری نظمیں ہوتے ہیں
نصیر احمد ناصر
بچے
ہمارے بے تعبیر خوابوں کا
عکس ہوتے ہیں
جب وہ
کسی نئے امکان،
کسی نئے افق کی جانب روانہ ہوتے ہیں
تو ہم ان کے زادِ سفر میں
اپنے گم کردہ راستے،
مٹ چکے نقشِ قدم،
اپنی کھوئی ہوئی منزلیں
اور اپنے ادھورے آدرش رکھ دیتے ہیں
تاکہ جب کبھی وہ
تھک کر بیٹھیں
یا راستوں کی دھند میں گم ہونے لگیں
تو ہماری دی ہوئی کوئی خاموش دعا،
کوئی بے صدا تمنا،
کوئی ٹمٹماتی ہوئی یاد
ان کی رات کا رہنما ستارہ بن جائے
بچے
ہماری ادھوری نظمیں ہوتے ہیں
جنہیں ہم اپنی آنکھوں میں
مکمل دیکھنا چاہتے ہیں (updated 14 hours ago) | Damadam