"سزا کے دن ہیں میں سوچتا ہوں زمین فاقے سے مرنے والوں کی اجتماعی لحد سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے کوئی بھی آفت دلوں میں پلتے حسد سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے کسی بھی اجڑے دیار کا دکھ ترے تبسم کو ڈھونڈتے خال و خد سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے دُعا کے دن ہیں میں بولتا ہوں مری مناجات سن کے شب کی ضعیف پیشانی جُھک گئی ہے سوال کے پیرہن میں لپٹی پکار بھی تا اُفُق گئی ہے ہمارے ہاتھوں کے درمیاں جتنا فاصلہ ہے دعا اثر سے بس اتنی دوری پہ رُک گئی ہے خدا کے دن ہیں میں جانتا ہوں زمین کے خلق ہونے پر جتنا خرچ آیا خدا نے سارا ادا کیا تھا اسی تعاون کے پیش منظر میں ساری خلقت نے اس کو اپنا خدا کیا تھا اُسی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جب بھی چاہے گا بستیوں کو اجاڑ دے گا چھڑائے گا ہاتھ اور دلوں کو اجاڑ دے گا.🍂" image uploaded on March 30, 2020, 7:04 a.m. | Damadam
Damadam.pk
سزا کے دن ہیں
میں سوچتا ہوں 
زمین فاقے سے مرنے والوں کی اجتماعی لحد سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے
کوئی بھی آفت دلوں میں پلتے حسد سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے
کسی بھی اجڑے دیار کا دکھ
ترے تبسم کو ڈھونڈتے خال و خد سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے

دُعا کے دن ہیں
میں بولتا ہوں
مری مناجات سن کے شب کی
ضعیف پیشانی جُھک گئی ہے
سوال کے پیرہن میں لپٹی پکار بھی تا اُفُق گئی ہے
ہمارے ہاتھوں کے درمیاں جتنا فاصلہ ہے
دعا اثر سے بس اتنی دوری پہ رُک گئی ہے

خدا کے دن ہیں
میں جانتا ہوں
زمین کے خلق ہونے پر جتنا خرچ آیا 
خدا نے سارا ادا کیا تھا
اسی تعاون کے پیش منظر میں ساری خلقت نے اس کو اپنا خدا کیا تھا
اُسی نے یہ فیصلہ کیا تھا
کہ جب بھی چاہے گا بستیوں کو اجاڑ دے گا
چھڑائے گا ہاتھ اور دلوں کو اجاڑ دے گا.🍂
A  : سزا کے دن ہیں میں سوچتا ہوں زمین فاقے سے مرنے والوں کی اجتماعی لحد سے بڑھ - 
More images by Ayaan_khan_191: