"ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم کیوں لوگ ہمیں سمجھتے ہیں یہاں پردیسی اک مدت سے اس شہر میں آباد ہیں ہم" image uploaded on April 9, 2020, 3:04 p.m. | Damadam
Damadam.pk
ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم  کیوں لوگ ہمیں سمجھتے ہیں یہاں پردیسی اک مدت سے اس شہر میں آباد ہیں ہم
B  : ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم  - 
More images by Botton: