""قبول ہے" بوقت رخصت ہجر کی دلہن کے بازو پہ سیاہ پٹی باندھ دی گئ آنکھوں سے نکلتے ہوئے نیر بتا رہے تھے یہ لوگ بے وجہ ایکدوسرے سے بیاہے گئے ان کے خواب اجداد کی دستاروں میں دفنائے گئے کوئ بھی خوش نہیں تھا فقط اداسی تھی جو منہ چڑھا رہی تھی اور وہ پری رو قبول ہے پڑھ کے "آمین" کہہ رہی تھی کون جانتا تھا ؟؟ کہ گھر کی چوکھٹ سے باہر نکلتے وقت کونسا دکھ تھا جو اژدھا بن کے بدن کو لپیٹ رہا تھا آنکھوں سے نکلنے والی آنسوؤں کی جھڑی کس اپنے سے دور ہونے پہ گالوں کو تر کر رہی تھی بہرکیف !! بوقت رخصت ! "محبت" اپنے قد سے نیچی تھی لیکن انا کے سائے میں بزرگوں کی پگڑی بہت اونچی تھی !!" image uploaded on Sept. 6, 2020, 1:57 p.m. | Damadam
Damadam.pk
"قبول ہے"

بوقت رخصت
ہجر کی دلہن کے بازو پہ سیاہ پٹی باندھ دی گئ
آنکھوں سے نکلتے ہوئے نیر بتا رہے تھے 
یہ لوگ بے وجہ ایکدوسرے سے بیاہے گئے 
ان کے خواب اجداد کی دستاروں میں دفنائے گئے 
کوئ بھی خوش نہیں تھا 
فقط اداسی تھی جو منہ چڑھا رہی تھی
اور وہ پری رو قبول ہے پڑھ کے "آمین" کہہ رہی تھی

کون جانتا تھا ؟؟ 
کہ گھر کی چوکھٹ سے باہر نکلتے وقت
کونسا دکھ تھا جو اژدھا بن کے بدن کو لپیٹ رہا تھا
آنکھوں سے نکلنے والی آنسوؤں کی جھڑی کس اپنے سے دور ہونے پہ گالوں کو تر کر رہی تھی
بہرکیف !! 
بوقت رخصت !
"محبت" اپنے قد سے نیچی تھی لیکن 
انا کے سائے میں بزرگوں کی پگڑی بہت اونچی تھی !!
l  : "قبول ہے" بوقت رخصت ہجر کی دلہن کے بازو پہ سیاہ پٹی باندھ دی گئ آنکھوں - 
More images by lovingboy11_pk: