"الجھنوں کی بھیڑ میں لا پتہ ہے زندگی جانے کتنے راستوں سے آشنا ہے زندگی کوئی منزل پر پہنچ کر بھی رہا محو سفر کوئی ہراک راستے میں دیکھتا ہے زندگی میری نظریں آ کے رک جاتی ہے میرے ہاتھ پہ کیالکیروں میں بھی کچھ لکھا ہوا ہے زندگی میں شب ہجراں میں اکثر سوچتی ہوں بیٹھ کر مجھکو جو کچھ بھی ملا کیا بس یہی ہے زندگی" image uploaded on Sept. 14, 2020, 1:07 p.m. | Damadam
Damadam.pk
الجھنوں کی بھیڑ میں لا پتہ ہے زندگی جانے کتنے راستوں سے آشنا ہے زندگی کوئی منزل پر پہنچ کر بھی رہا محو سفر کوئی ہراک راستے میں دیکھتا ہے زندگی میری نظریں آ کے رک جاتی ہے میرے ہاتھ پہ کیالکیروں میں بھی کچھ لکھا ہوا ہے زندگی میں شب ہجراں میں اکثر سوچتی ہوں بیٹھ کر مجھکو جو کچھ بھی ملا کیا بس یہی ہے زندگی
H  : الجھنوں کی بھیڑ میں لا پتہ ہے زندگی جانے کتنے راستوں سے آشنا ہے زندگی کوئی - 
More images by Hani-Rajpoot-11: