"*قرآن کی محفل ایک گھاٹ ھے جس سے پانی بھی نصیب والوں کو ملتا ھے کچھ لوگ چن لیے جاتے ھیں جو اس گھاٹ سے اپنے دلوں کو سیراب کرتے ہیں*
*اگر انساں اس گھاٹ کے پانی کی قدر نہ کرے پانی کو ضاٸع کردے تو اس سے یہ نعمت چھین لی جاتی ھے اسکوتوفیق نہیں ملتی اس گھاٹ تک آنے کی*
*اس گھاٹ سے پانی پینے والا خود بھی تروتازہ ھو جاتا ہے اور جاکر دوسروں کو بھی سیراب کرتا ہے*
*جسطرح گرمی کی شدت کو پانی ٹھنڈا کرتا ہے*
*بالکل اسی طرح قرآن حالات کے مارے شخص کے دل کو ٹھنڈا کرتا ھے*
*یہ قرآن روح کی غذا ہے روح کو سکون تب ہی ملتا ھے جب اسکا اثر دلوں کے اندر اتر جائے*" image uploaded on Sept. 16, 2020, 2:21 a.m. | Damadam