"اُس نے جاتے جاتے رابطے کا کوئی بھی ذریعہ نہیں چھوڑا۔ نا کوئی ای میل ایڈریس ، نا کوئی کال نمبر ، نا کسی گھر کا پتہ ، جس پر خط لکھ کر میں ہجر کی یخ بستہ راتوں کا احوال سنا سکوں۔" image uploaded on Oct. 3, 2020, 7:39 a.m. | Damadam
Damadam.pk
اُس نے جاتے جاتے رابطے کا کوئی بھی ذریعہ نہیں چھوڑا۔
نا کوئی ای میل ایڈریس ، نا کوئی کال نمبر ، نا کسی گھر کا پتہ ، جس پر خط لکھ کر میں ہجر کی یخ بستہ راتوں کا احوال سنا سکوں۔
b  : اُس نے جاتے جاتے رابطے کا کوئی بھی ذریعہ نہیں چھوڑا۔ نا کوئی ای میل ایڈریس ، - 
More images by bosss: