"ہم اہل وفا حسن کو رسوا نہیں کرتے،
پردہ بھی اٹھائیں رخ سے تو دیکھا نہیں کرتے۔
کر لیتے ہیں دل اپنا تصوّر سے ہی روشن،
موسی کی طرح طور پہ جایا نہیں کرتے۔
رکھتے ہیں جو اوروں کیلۓ پیار کا جزبہ،
وہ لوگ کبھی ٹوٹ کے بکھرا نہیں کرتے۔
کہتی ہے تو، کہتی رہے مغرور یہ دنیا،
ہم مڑ کے کسی شخص کو دیکھا نہیں کرتے۔
ہم لوگ تو مۓ نوش ہیں، بدنام ہیں ساغر،
پاکیزہ جو ہیں لوگ، وہ کیا کیا نہیں کرتے۔
ساغر صدیقی" image uploaded on Oct. 31, 2020, 7:28 a.m. | Damadam