"چلتے پھرتے ہوئے لوگ کم ہوگئے صرف کتبوں پہ نام و نشاں رہ گیا
ایک چہرہ جو آنکھوں کی بینائی تھا کس سے پوچھیں گے اب وہ کہاں رہ گیا
اپنی آنکھوں کو دہلیز پر چھوڑ کر سب مقیں مشترک غم لیے سو گئے
منتظر کھڑکیوں کو سمیٹے ہوئے بین کرتا سسکتا مکاں رہ گیا" image uploaded on March 11, 2021, 5:26 p.m. | Damadam