"کب ہم نے یہ چاہا تھا، تا عمر ٹھہر جاتے کچھ خواب تھے پلکوں کی دہلیز پہ دھر جاتے یخ بستہ ہوائیں تو کہتی تھیں، پلٹ جاؤ تم خود ہی زرا سوچو گهر ہوتا تو گهر جاتے ہم پر تو مقفل تھا ہر شہر کا دروازه وه کرب کی راتیں تھیں تم ہوتے تو مر جاتے اک بار محبت سے آواز تو دی ہوتی سو بار محبت میں ہم جاں سے گزر جاتے ملنا نہیں ممکن تھا رَستہ ہی بدل لیتے دل میں نہ اترنا تھا، دل سے ہی اتر جاتے صد شکر کہ مٹی کی آغوش مِلی میثمؔ ایسا بھی نہ گر ہوتا انسان کدھر جاتے🔥 Mahii 💔" image uploaded on Feb. 28, 2022, 4:10 p.m. | Damadam
Damadam.pk
کب ہم نے یہ چاہا تھا، تا عمر ٹھہر جاتے
کچھ خواب تھے پلکوں کی دہلیز پہ دھر جاتے
یخ بستہ ہوائیں تو کہتی تھیں، پلٹ جاؤ
تم خود ہی زرا سوچو گهر ہوتا تو گهر جاتے
ہم پر تو مقفل تھا ہر شہر کا دروازه
وه کرب کی راتیں تھیں تم ہوتے تو مر جاتے
اک بار محبت سے آواز تو دی ہوتی
سو بار محبت میں ہم جاں سے گزر جاتے
ملنا نہیں ممکن تھا رَستہ ہی بدل لیتے
دل میں نہ اترنا تھا، دل سے ہی اتر جاتے
صد شکر کہ مٹی کی آغوش مِلی میثمؔ
ایسا بھی نہ گر ہوتا انسان کدھر جاتے🔥 Mahii 💔
h  : کب ہم نے یہ چاہا تھا، تا عمر ٹھہر جاتے کچھ خواب تھے پلکوں کی دہلیز پہ دھر - 
More images by hoomig: