"رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا
اپنا ہونا اور نہ ہونا مبہم تھا
اک گل تنہائی تھاجو ہمدم تھا
خاروغبار کا سرمایہ بھی کم کم تھا
آنکھ سے کٹ کٹ جاتے تھے سارے منظر
رات سے رنگ دیدہ حیراں برہم تھا
جس عالم کو٫ ہو ،کا عالم کہتے ہیں
وہ عالم تھا اور وہ عالم پیہم تھا
خار خمیدہ سر تھے بگولے بے آواز
صحرا میں بھی آج کسی کا ماتم تھا🔥 Mahii 💔" image uploaded on March 7, 2022, 4:16 p.m. | Damadam