"ابھی ساتھ تھے دونوں ہمنوا
وہ بھی ایک پہ
میں بھی ایک پہ
اُسے سیڑھی ملی وہ چڑھ گیا
مجھے راستے میں ہی ڈس لیا
میرے بخت کے کسی سانپ نے
بڑی دور سے پڑا لوٹنا
زخم کھا کے اپنے نصیب کا
وہ ننانوے پہنچ گیا
میں دس کے پھیر میں گھر گیا
اسے ایک نمبر تھاچاہیۓ
جو نہیں ملا سو نہیں ملا
میں بڑھا تو بڑھتا چلا گیا
بس ایک چوکے کی بات تھی
اس سے جیتنا میری مات تھی
میں نے جان کے گوٹ غلط چلی
اور سانپ کے منہ میں ڈال دی
یہ جوپیار ہے
کبھی سوچنا
یہ بھی سانپ سیڑھی کا کھیل ہے ۔۔۔۔ !" image uploaded on May 31, 2022, 2:58 a.m. | Damadam