"ہمِیشگی کے پرندوں کو رنگ بھائے نہیں وہ سبز پانی پہ اُڑ کر بھی مسکرائے نہیں تمام ہوتی ہوئی راہ سے بلائے نہیں ہوا سے کہہ دو مجھے نیند سے جگائے نہیں لے اپنا دل مِرے داغوں کی چھاؤں سے بھر لے پھر اِس سے آگے شفق تک کوئی سرائے نہیں سُکٌون ربط سے خالی ہے، وجد سے وحشت طلب کا جسم نہیں ہے نظر کے سائے نہیں غم و گُداز کی مِحرَم ہے شاعری جیسے اے تیرگی کوئی شب کا تِرے سِوائے نہیں شہید روشنی یہ کہہ گئی ہے لشکر سے الاؤ درد کا رو رو کے یوں بجھائے نہیں نوشین قمبرانی" image uploaded on June 20, 2022, 5:43 p.m. | Damadam
Damadam.pk
Beautiful Nature image
M  : ہمِیشگی کے پرندوں کو رنگ بھائے نہیں وہ سبز پانی پہ اُڑ کر بھی مسکرائے نہیں - 
More images by Mas0om-ChuraiL: