"اے محبّت تیرے انجام پے رونا آیا
جانے کیوں آج تیرے نام پے رونا آیا
کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ
منزل عشق میں ہر گام پے رونا آیا
یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی تھی
آج کچھ بات ہے جو شام پے رونا آیا
جو تو نے دیا میرے ہاتھ سے گرا
ساقی مجھے اس جام پے رونا آیا
مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلہ نوحہ گری
اس قدر گردش ایام پہ رونا آیا
کیا حسیں خواب دکھایا تھا محبت نے
کُھل گئی آنکھ تو تعبیر پہ رونا آیا
جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیل
مجھ کو اپنے دلِ ناکام پہ رونا آیا" image uploaded on April 2, 2025, 11:51 a.m. | Damadam