"قربت سے ناشناس رہے ، کچھ نہیں بنا
خوش رنگ ، خوش لباس رہے ، کچھ نہیں بنا
ہونٹوں نے خود پہ پیاس کے پہرے بٹھا لئے
دریا کے آس پاس رہے ، کچھ نہیں بنا
اب قہقہوں کے ساتھ کریں گے علاجِ عشق
ہم مدتوں اداس رہے ، کچھ نہیں بنا
جس روز بے ادب ہوئے ، مشہور ہوگئے
جب تک سخن شناس رہے ، کچھ نہیں بنا
اس شخص کے مزاج کی تلخی نہیں گئی
ہم محوِ التماس رہے ، کچھ نہیں بنا
پھر ایک روز ترکِ محبت پہ خوش ہوئے
کچھ دن تو بدحواس رہے ، کچھ نہیں بنا 😔" image uploaded on Sept. 6, 2025, 9:27 p.m. | Damadam