"لہو سے سینچی ہوئی آرزوئے آزادی ہزار خوف کے سایوں تلے نہیں مرتی یہ جان کیا ہے؟ امانت ہے چند سانسوں کی مگر اصول کی خاطر صدا نہیں مرتی جلا کے خود کو جو روشن کرے دلوں کی سحر وہ شمع وقت کی آندھی سے بھی نہیں مرتی جھکا نہ جس کا علم ظلم کی ہواؤں میں وہ ایک صدا ہے جو صدیوں کبھی نہیں مرتی" image uploaded on March 1, 2026, 10:13 a.m. | Damadam
Damadam.pk
لہو سے سینچی ہوئی آرزوئے آزادی
ہزار خوف کے سایوں تلے نہیں مرتی
یہ جان کیا ہے؟ امانت ہے چند سانسوں کی
مگر اصول کی خاطر صدا نہیں مرتی
جلا کے خود کو جو روشن کرے دلوں کی سحر
وہ شمع وقت کی آندھی سے بھی نہیں مرتی
جھکا نہ جس کا علم ظلم کی ہواؤں میں
وہ ایک صدا ہے جو صدیوں کبھی نہیں مرتی
D  : لہو سے سینچی ہوئی آرزوئے آزادی ہزار خوف کے سایوں تلے نہیں مرتی یہ جان کیا - 
More images by Doremi: