تہی جو محبتوں نزاکت نہی رہی کیا عشق کیئجے کہ روایت نہی رہی کہتے تھے ھم کہ جی نہ سکیں گے تیرے بغیر یہ کیا ھوا کہ تجھ سے محبت نہی رہی
خیالوں میں آنے سے کیا فائدہ فقیروں کے گہر پہ بہی آیا کرو
تیری دنیا میں جینے سے تو بہتر ہے کہ مر جائیں وہی آنسو وہی آہیں وہی غم ہے جدھر جائیں
ایک سائے کی طرح رہتا ہوں تیرے ساتھ ساتھ یاد جب میری ستائے اپنا سایہ دیکہنا
Hui Ho golti to maaf kr Dena kya pata zindagi ki aakhri raat ho
اب تو ھاتہوں سے لیکریں بہی مٹی جاتی ھے اس کو کہو کر تو مرئے پاس رہا کچھ بہی نہی
میں تو اس واسطے چپ ھوں کے تماشا نہ بنے تو سمجھتا ھے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بہی نہی
کبھی تھک کے سوئے کبھی رات بھر نہ سوئے کبھی ھنس کے غم چھپایا کبھی منہ چھپا کے روئے
من کےمندر میں بٹہا کر میں تیری پوجا کروں مگر تو مجھ دیکہ نہ دیکہ میں تجھ دیکہا کروں
اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکہو سنگ مرمر پہ چلے گے تو پھسل جاؤ گے
جو ھو سکے تو میری روح میں سما جاؤ دل و جان کے رشتے تو ٹوٹ جاتے ہیں
چنگاریاں نہ ڈال میرے دل کے گہاؤ میں میں خود ہی جل رہا ھوں دکہوں کے الاؤ میں
میرے درد دل کی حالات میرے آنسوؤں سے پوچھ میرے قہقہوں کی دنیا میری ترجمان نہی ھے
دیکھ کے میرے جنازے کو مسکرا کے کہا بتوں نے بات نہ چوچھی تو اب خدا کے چلے
جب جسم سے روح نکل سکتی ھے تو دل سے لوگ کیوں نہی