Damadam.pk
آقا-کے-سپاہی-علی-معاویه-بهائی's posts | Damadam

آقا-کے-سپاہی-علی-معاویه-بهائی's posts:

ہم سے روٹھو نہ ستارے۔۔۔ ہم چلے جائیں گے
اے دل و جاں سے پیارے۔۔۔ ہم چلے جائیں گے
۔
ڈوبتے عشق و محبت کے سمندر میں مجنوں
لگنے سے پہلے کنارے۔۔۔ ہم چلے جائیں گے
۔
ہم محبت کے عوض جان نچھاور کر کے
ہوں گے نفعے یا خسارے۔۔۔ ہم چلے جائیں گے
۔
جان بخشی کی ضمانت دو تو کچھ عرض کریں
خط دِکھا کے ترے سارے۔۔۔ ہم چلے جائیں گے
۔
نَجْم آ جائے گا جس وقت بُلاوا ہم کو
کوئی جتنا بھی پُکارے۔۔۔۔ ہم چلے جائیں گے
نجمِ مُعاویہ

وہ مجھ کو موردِ الزام........ ٹہرایا، تو اچّھا ہے
محبت میں مجھے ناکام....... ٹہرایا، تو اچّھا ہے
کسی پہلو، کسی صورت، نکل سکتی تھی خوبی بھی
کہ ہر صورت مجھے وہ عام..... ٹہرایا، تو اچّھا ہے
اِشاروں ہی اِشاروں میں بھی کر سکتا شکایت تھا
مگر 'بے درد' لے کر نام........ ٹہرایا، تو اچّھا ہے
نَجْمِ مُعَاوِیَہ

میں اُسی پیرِ کامل کا عاشق ہوں جو
ایبٹ آباد میں........ جاویداں ہوگئے
.
خود پسندی کی عادت سے مجبور تھے
میرے اشعار سے......... بدگماں ہوگئے
.
ہدہد الہ آبادی

دیر کی معذرت، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ سحر ہوں میں
مجھ کو رستے میں رات پڑتی ہے!

بس اتنی بات تھی, کہتے تو ہم ترمیم کر لیتے
سفر کو بانٹ لیتے ہم, تھکن تقسیم کر لیتے
اگر ہم سے شکایت تھی تو پھر اظہار کرنا تھا
معافی مانگ لیتے ہم, خطا تسلیم کر لیتے
.j1

نیو کلام
زندگی میں کبھی خواب تھے کچھ مرے
ہم سفر پیارے احباب تھے کچھ مرے
ہم کبھی چاند تھے، نور تھے آنکھوں کا
اور بھی خاص القاب تھے کچھ مرے
خاک تھا، خاک ہو جاتا اک دن مگر
خاک کرنے میں بے تاب تھے کچھ مرے
دن کی اب روشنی چھین لی، جو کبھی
شب اندھیری میں مہتاب تھے کچھ مرے۔۔۔۔
پیار، الفت، یقیں، دوستی اور وفا
حجر اور غم کے اسباب تھے کچھ مرے
دل نہیں چاہتا ان کو دوں بد دعا
نجم جیسے بھی احباب تھے کچھ مرے
نجم معاویہ

افسوس کے سمجھا نہ ہمیں اہلِ نظر نے۔۔!!
۔
۔
ہم وقت کی زنبیل میں ہیروں کی طرح تھے۔۔!!
۔
۔
حیرت ہے کہ وہ لوگ بھی اب چھوڑ چلے ہیں۔۔!!
۔
۔
جو میری ہتھیلی میں لکیروں کی طرح تھے۔۔!!

اسی امید سے بیٹھا ہوں اک دن کوئی خود آکر
۔
مجھے سمجھائے گا نکتہ۔۔ یہ دل پر بوجھ سا کیوں ہے

رائے پہلے سے بنا لی تونے۔۔۔
دل میں اب ہم ترے گھر کیا کرتے

وہ مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا۔۔
سائے پھیلا کے شجر ۔۔ کیا کرتے

چلو اچھا ہوا اپنوں میں کوئی غیر تو نکلا
اگر ہوتے سبھی اپنے تو بیگانے کہاں جاتے
چلو اچھا ہوا کام آگئی دیوانگی اپنی
وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

تم تو تھکن شناس تھے۔۔۔ چہرے سے بھانپتے
تم کو بھی آبلے ہی دکھانا پڑے مجھے

مری روح کی حقیقت
مرے آنسوؤں سے پوچھو
مرا مجلسی تبسم
مرا ترجماں نہیں ہے

وقت بدلے گا کبھی تو نَجم کو یہ ہے یقِیں
۔
غَم بدل دے گا خُوشی میں، وہ خُدا ہے، سُن ذَرا

تیری خاموشی نے مجھ کو اور تَنہا کر دیا
۔
میری دُنیا میں عَجَب رنگِ فَنا ہے، سُن ذَرا

نجم کی آنکھ میں امید کا جگنو ہے ابھی
▪▪▪
اسی جگنو کو تو منزل کا پتہ دے یا رب
نجم معاویہ

خواب ٹوٹے ہیں تو امید بھی کمزور ہوئی
▪▪▪
دل کی دیوار کو پھر سے بنا دے یا رب

وقت کی دھند میں کھویا ہوا چہرہ ہے کوئی
▪▪▪
میری آنکھوں کو وہ منظر ہی دکھا دے یا رب

یاد کی راکھ میں جلتے ہوئے لمحے ہیں بہت
▪▪▪
ان بجھی آگ کو پھر سے جلا دے یا رب

وہ سمجھتا ہے کہ اس کا کوئی اپنا ہی نہیں
▪▪▪
میری چاہت کو نظر اس کی بنادے یا رب