عشق وفا بھی ہے عشق دغا بھی ہے عشق وبا بھی ہے
عشق دوا بھی ہے
عشق کر تو اصول عشق بھی یاد رکھ
ورنہ یہ عشق ایک سزا بھی ہے
عشق کرنے کا سلیقہ ہمیں نہیں آتا
عشق کر کے مکر جانے کا طریقہ ہمیں نہیں آتا
ہمیں آتا ہے تو بس یاد کرنا
تمھیں بھولا دینے کا وظیفہ ہمیں نہیں آتا
تم جان ہی نا پائے
میری سانسیں تیرے
ساتھ کی محتاج ہیں
جہاں تیرا ساتھ چھوٹا
میرا سانس سے رشتہ ٹوٹا
اکیلے پن سے کہاں تال میل ہوتا ہے
کھلاڑی عشق میں دو ہوں تو کھیل ہوتا ہے
نہ لینا عشق کے پرچے میں سو سے کم نمبر
یہاں ننانوے والا بھی فیل ہوتا ہے
وہ کوئی عام سا شخص تو نہیں ہو سکتا
ہم جسے اپنا کہیں عشق کریں رو پڑیں
تو اپنی ہتھیلی کی لکیروں کا مشاہدہ تو کرو
شائد اس پہ میری قسمت کے نشاں باقی ہوں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain