آپ نے ضرور اپنے اردگرد ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جو اپنی ناکامی، نااہلی اور سستی چھپانے کے لیے ہر محفل میں یہی بھاشن دیتے ہیں کہ “ہم تو ہر حال میں خوش ہیں، دولت سب کچھ نہیں ہوتی، پیسے سے خوشیاں نہیں ملتیں۰ ” ذرا ان کی زندگی پر نظر ڈالیں: یا تو وہ مکمل طور پر ناکام ہیں، یا ساٹھ سال دو نمبری کر کے اب حاجی صاحب بن چکے ہیں، یا پھر وہ عیار لوگ ہیں جن کے پاس سب کچھ ہے، جو اپنی آسائشیں بھی دکھاتے ہیں اور ساتھ ہی دوسروں کو غربت میں خوش رہنے کے لیکچر بھی دیتے ہیں۰ ایسے لوگوں سے بس ایک سوال پوچھنا کافی ہے: مان لیا کہ دولت سے سب کچھ نہیں خریدا جا سکتا، تو یہ بھی بتا دیجیے کہ غربت سے آخر کون سی خوشی کشید ہوتی ہے؟ بھوک میں کون سا سکون ہے؟ ٹپکتی چھت کے نیچے سسک کر جینے میں کون سا لطف ہے؟ اچھی تعلیم اور اچھے علاج سے محرومی میں کون سا اجر چھپا ہے؟
کامیابی صرف سوچنے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے تمہیں ہر دن اٹھنا پڑتا ہے، ہر دن پسینہ بہانا پڑتا ہے، اور ہر دن سستی کو دروازے پر چھوڑ کر باہر نکلنا پڑتا ہے یہی ضبطِ نفس، نظم و ضبط ہے اسی طرح عقل مند بننے کے لیےصرف خواہش کافی نہیں ہوتی، بلکہ تمہیں کتاب کھولنی پڑتی ہے، ہر دن کچھ نیا پڑھنا پڑتا ہے اور ہر دن اپنے ذہن کو بیدار رکھنا پڑتا ہے یہی نظم و ضبط ہے نظم و ضبط کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی دوسرا تمہیں حکم دے رہا ہے، بلکہ یہ وہ لمحہ ہے جب تم اپنے اندر کی آواز سنتے ہو اور اس آواز کو ماننے کی ہمت رکھتے ہو دیکھو، سورج ہر دن بغیر تاخیر کے طلوع ہوتا ہے یہ بھی نظم و ضبط ہے لیکن تم کہتے ہو کل سے اٹھیں گے، کل سے ورزش کریں گے،کل سے دھیان کریں گے— اور وہ کل کبھی نہیں آتا #اوشو
ایک دن اچانک تمہارا رزلٹ آئے گا اور تمہاری تقدیر بدل دے گا، بس تب تک ہارنا مت۔ Consistency + Hard Work + Tawakkul on Allah = True Success 🙌 Allah Hafiz 🙂
"اپنے آپ کو اتنا مصروف، اتنا نظم و ضبط کا پابند، اور اتنا پُرعزم بنا لو کہ تمہیں دوسروں کی زندگیوں میں کیا ہو رہا ہے، اس کا پتہ چلانے، بے معنی موازنہ کرنے، یا غیر منطقی رائے قائم کرنے کا وقت ہی نہ ملے۔ خود پر توجہ مرکوز رکھو اور خود کے لیے وقف رہو۔"