خوشبو کے ساتھ اس کی رفاقت عجیب تھی
لمس ہوائے شام کی راحت عجیب تھی
چشم شب فراق میں ٹھہری ہے آج تک
وہ ماہتاب عشق کی ساعت عجیب تھی
آساں نہیں تھا تجھ سے جدائی کا فیصلہ
پر مستقل وصال کی وحشت عجیب تھی
لپٹا ہوا تھا ذہن سے اک کاسنی خیال
اترا تو جان و جسم کی رنگت عجیب تھی
اک شہر آرزو سے کسی دشت غم تلک
دل جا چکا تھا اور یہ ہجرت عجیب تھی
ملنے کی آرزو، نہ بچھڑنے کا کچھ ملال
ہم کو اس آدمی سے محبت عجیب تھی
آنکھیں ستارہ ساز تھیں باتیں کرشمہ ساز
اس یار سادہ رو کی طبیعت عجیب تھی
ہر زخمِ دروں جسم پہ بیدار رہے گا
جب چشمِ دریدہ مِرا غمخوار رہے گا
رہ جائیں گے اِس گھر میں کسی یاد کے آسیب
ہم ہونگے نہ یہ سایہ ءِ دیوار رہے گا
دل بس میں نہیں ہوتا اگر ہو بھی کسی طور
پھر بھی غمِ اکبر کا عزادار رہے گا
کب تک میں اِسی آنکھ کو دکھ دیتا رہوں گا
کب تک یہی آئینہ مِرا یار رہے گا!
سرخ رو کارِ جہاں ، محفلِ دل بے رونق
بھر دیا رنگ کہاں ہم نے ، کہاں بھرنا تھا
وقت لازم ہے مگر اے دلِ برباد تجھے
جسم کی موت سے پہلے تو نہیں مرنا تھا
ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں
ایک دوسرے کو ہجر بھیجا
تم میرے ہونٹوں سے
کسی ان چاہے اظہار کے طرح بچھڑ گئے
اور میں تمہاری آنکھوں سے
آنسوؤں کی طرح بے دخل ہوگی
کسی میز پر آج بھی دو موم بتیاں
بڑی شدت سے جل رہی ہوں گی
مگر ہم روشنی کا مقدمہ ہار گئے تھے
دیکھو ہمارے اندر
کتنی تاریکیاں بھری ہوئی ہیں
کیا تمہیں کوئی راستہ سجھائی دیتا ہے؟
میں بھول چکی ہوں دروازہ کس طرف تھا؟
#moona_lisa
#عشق_اور_هم
کبھی کسک جدائی کی کبھی مہک وصال کی
قدم نہ تھے زمیں پہ جب وہ عمر تھی کمال کی
کئی دنوں سے فکر کا افق اداس اداس ہے
نہ جانے کھو گئی کہاں دھنک ترے خیال کی
رفاقتوں کے وہ نشاں نہ جانے کھو گئے کہاں
وہ خوشبوؤں کی رہ گزر وہ رتجگوں کی پالکی
کسی کو کھو کے پا لیا کسی کو پا کے کھو دیا
نہ انتہا خوشی کی ہے نہ انتہا ملال کی
وہ روشنی کا خواب تھا مگر وہی سراب تھا
عروج میں چھپی ہوئی تھی ابتدا زوال کی
غزلوں کی دھنک اوڑھ ، میرے شعلہ بدن تُو
ہے میرا سخـن تُو ، میرا موضوعِ ســـخن تُو
کلیــــوں کی طرح پُـــــــھوٹ سـرِ شاخِ تمنّا
خوشبو کی طرح پھیل ، چمن تا بــہ چمن تُو
ھـوش کا کتنا تناسب ھـو بتا دے مجھ کو
???
اور اس عشق میں درکار ہـے وحشت کتنی
دیکھ یہ ہاتھ میرا اور بتا اے دست شناس
ہجر کتنا ہے مقدر میں اور ہـے محبت کتنی ???
مُدّتوں بعد ھی آتا ھے نیا پَن مُجھ میں
مُدّتوں بعد ھی میں نَغمہ سَرا ھوتا ہُوں
زرد موسَم میں مُجھے چھوڑ کے جانے والے
میں ترے لَمس کی حِدّت سے ہَرا ھوتا ہُوں
کھینچ کر رات کی دیوار پہ مارے ہوتے
میرے ہاتھوں میں اگر چاند ، ستارے ہوتے
یہ جو آنسو ہیں ، مری پلکوں پہ پانی جیسے
اس کی آنکھوں سے ابھرتے تو ستارے ہوتے
اتنی حیرت تمہیں مجھ پر نہیں ہونی تھی اگر
تم نے کچھ روز مری طرح گزارے ہوتے
یہ جو ہم لوگ ہیں احساس میں جلتے ہوئے لوگ
ہم زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے
تم کو انکار کی خو مار گئی ہے واحد
ہر بھنور سے نہ الجھتے تو کنارے ہوتے
دِل تھا کہ ، پُھول بَن کے بِکھرتا چَلا گیا
تَصوِیر کا جَمال ٫ اُبھرتا چَلا گیا
شام آئی ، اور آئی ٫ کُچھ اِس اَھتمام سے
وہ گیسُوئے دَراز ، بِکھرتا چَلا گیا
غَم کی لَکیر تھی ، کہ خوُشی کا اُداس رَنگ
ھر نَقش آئینے میں ، اُبھرتا چَلا گیا
ھر چَند راستے میں تھے ٫ کانٹے بِچھے ھُوئے
جس کو تیری طلب تھی ، گُزرتا چَلا گیا
جب تک تیری نِگاہ نے ، توفِیق دی مُجھے
میں تیری زُلف بن کے ، سَنورتا چَلا گیا
دو ھی تو کام تھے ، دِلِ ناداں کو اے عدمؔ
جِیتا چَلا گیا ، کبھی مَرتا چَلا گیا۔
تیرے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہے
میری دنیا ہے یہی مجھ کو یہیں رہنا ہے
کام جو عمر رواں کا ہے اسے کرنے دے
میری آنکھوں میں سدا تجھ کو حسیں رہنا ہے
دل کی جاگیر میں میرا بھی کوئی حصہ رکھ
میں بھی تیرا ہوں مجھے بھی تو کہیں رہنا ہے
آسماں سے کوئی اترا نہ صحیفہ نہ سہی
تو مرا دیں ہے مجھے صاحب دیں رہنا ہے
جیسے سب دیکھ رہے ہیں مجھے اس طرح نہ دیکھ
مجھ کو آنکھوں میں نہیں دل میں مکیں رہنا ہے
پھول مہکیں گے یوں ہی چاند یوں ہی چمکے گا
تیرے ہوتے ہوئے منظر کو حسیں رہنا ہے
میں تری سلطنت حسن کا باشندہ ہوں
مجھ کو دنیا میں کہیں اور نہیں رہنا ہے
وہ جو الجھے الجھے خیال تھے، کوئی جال تھے
یہ جو سلجھا سلجھا کلام ہے، ترے نام ہے
وہ گماں کے جتنے پڑاؤ تھے ، مرے چاؤ تھے
یہ یقیں جو مست خرام ہے ترے نام ہے
وہ جو تشنگی سرِ آب تھی، ترا خواب تھی
یہ جو موج موج کا جام ہے، ترے نام ہے
وہ جو ٹمٹماتا چراغ تھا ، مرا داغ تھا
یہ جو نورِ ماہِ تمام ہے ترے نام ہے
وہ جو آنسوؤں بھری رات تھی مری بات تھی
یہ جو قہقہوں بھری شام ہے، ترے نام ہے
وہ جو راستوں کا غبار تھا ، کسے بار تھا
یہ جو منزلوں کا مقام ہے، ترے نام ہے
یہ کب کہتی ہوں ، تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ.
وہیں سے لوٹ جانا تم، جہاں بے زار ہو جاؤ
ملاقاتوں میں وقفہ اس لئے ہونا ضروری ہے
کہ تم اک دن جدائی کے لئے تیار ہو جاؤ
بہت جلد سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو
بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہو جاؤ
بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو
بس اب ایسا کرو تم سایۂ دیوار ہو جاؤ
ابھی پڑھنے کے دن ہیں لکھ بھی لینا حالِ دل اپنا
مگر لکھنا تبھی جب لائق اظہار ہو جاؤ
یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے
مجھ کو حالات نے مارا ہے مکمل کر کے
جانب شہر فقیروں کی طرح کوہ گراں
پھینک دیتا ہے بخارات کو بادل کر کے
جل اٹھیں روح کے گھاؤ تو چھڑک دیتا ہوں
چاندنی میں تری یادوں کی مہک حل کر کے
دل وہ مجذوب مغنی کہ جلا دیتا ہے
ایک ہی آہ سے ہر خواب کو جل تھل کر کے
جانے کس لمحۂ وحشی کی طلب ہے کہ فلک
دیکھنا چاہے مرے شہر کو جنگل کر کے
عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ
اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے
اب نہ بکھرے گا مرے ضبط کا مادہ وعدہ
کر لیا ترکِ تعلق کا ارادہ وعدہ
تو مرے زخمِ تمنا کو ذرا اور بڑھا
کر دیا خانہءِ دل اور کشادہ۔۔۔۔۔ وعدہ
مستیِ نشہءِ دلدار میں جھومیں گے سدا
گر پلا دے تُو ہمیں آنکھ سے بادہ، وعدہ
آخری بار ہمیں لوٹنے دے واپس کو
پھر نہ آئیں گے تری سمت کو وعدہ، وعدہ
اک اذیت ہی بہت ہے ہمیں تا عمر حسیب
اب نہ پہنیں گے کبھی عشق لبادہ وعدہ
ہجر جب طے ہے تو بے کار نہ حجت کرنا
جانے والے کو بہت پیار سے رخصت کرنا
وہ جو بھیجے تھے تری مست نگاہوں نے پیام
ایک بار اور ذرا ان کی وضاحت کرنا
سب کے ہاتھوں میں یہ اعجاز مسیحائی کہاں
ایک ہی لمس کا منصب ہے کرامت کرنا
یہ تو ایسا ہے کہ اس راہ میں چل پڑیے
عشق کرنا تو بغیر اذن و اجازت کرنا
درد اٹھتا بھی رہے آنکھ سے چھلکے بھی نہیں
سیکھتے سیکھتے آتا ہے شکایت کرنا
ہم کو آداب محبت نہیں آتے سیماؔ
ہم کو بس ٹوٹ کے آتا ہے محبت کرنا
میں آپ کی تہمت کی وضاحت دوں
آپ کو لگتا ہے آپ اتنے اہم ہونگے ...
یعنی اپنی نظر میں معتبر ہیں آپ
معزرت کے ساتھ، آپ کو وہم ہونگے___🔥
وہ اگر اب بھی کوئی عہد نبھانا چاہے
دل کا دروازہ کھلا ہے جو وہ آنا چاہے
عین ممکن ہے اسے مجھ سے محبت ہی نہ ہو
دل بہر طور اسے اپنا بنانا چاہے
دن گزر جاتے ہیں قربت کے نئے رنگوں سے
رات پر رات ہے وہ خواب پرانا چاہے
اک نظر دیکھ مجھے!! میری عبادت کو دیکھ!!
بھول پائے گا اگر مجھ کو بھلانا چاہے
وہ خدا ہے تو بھلا اس سے شکایت کیسی؟
مقتدر ہے وہ ستم مجھ پہ جو ڈھانا چاہے
خون امڈ آیا عبارت میں، ورق چیخ اٹھے
میں نے وحشت میں ترے خط جو جلانا چاہے
نوچ ڈالوں گی اسے اب کے یہی سوچا ہے
گر مری آنکھ کوئی خواب سجانا چاہے
اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
کسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب آئیں تو لوٹ آنا
ابھی نئی وادیوں، نئے منظروں میں رہ لو مگر میری جاں
یہ سارے اک ایک کر کے جب تم کو چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا
جو شام ڈھلتے ہی اپنی اپنی پناہ گاہوں کو لوٹتے ہیں
اگر وہ پنچھی کبھی کوئی داستاں سنائیں تو لوٹ آنا
نئے زمانوں کا کرب اوڑھے ضعیف لمحے نڈھال یادیں
تمھارے خوابوں کے بند کمروں میں لوٹ آئیں تو لوٹ آنا
میں روز یونہی ہوا پہ لکھ لکھ کے اس کی جانب یہ بھیجتا ہوں
کہ اچھے موسم اگر پہاڑوں پہ مسکرائیں تو لوٹ آنا
اگر اندھیروں میں چھوڑ کر تم کو بھول جائیں تمھارے ساتھی
اور اپنی خاطر ہی اپنے اپنے دیے جلائیں تو لوٹ آنا
مری وہ باتیں تو جن پہ بے اختیار پنستا تھا کھلکھلا کر
بچھڑنے والے مری وہ باتیں کبھی رلائیں تو لوٹ آنا۔ ۔
ہمارے دل میں کہیں درد ہے ؟ نہیں ہے نا !
ہمارا چہرہ بَھلا زرد ہے ؟ نہیں ہے نا !
سُنا ہے' آدمی مر سکتا ہے' بچھڑتے ہوئے
ہمارا ہاتھ چُھوؤ ' سرد ہے ؟ نہیں ہے نا !
سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے
ہمارے رخ پہ کہِیں گرد ہے ؟ نہیں ہے نا !
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain