Damadam.pk
A_k_47's posts | Damadam

A_k_47's posts:

A_k_47
 

خوشبو کے ساتھ اس کی رفاقت عجیب تھی
لمس ہوائے شام کی راحت عجیب تھی
چشم شب فراق میں ٹھہری ہے آج تک
وہ ماہتاب عشق کی ساعت عجیب تھی
آساں نہیں تھا تجھ سے جدائی کا فیصلہ
پر مستقل وصال کی وحشت عجیب تھی
لپٹا ہوا تھا ذہن سے اک کاسنی خیال
اترا تو جان و جسم کی رنگت عجیب تھی
اک شہر آرزو سے کسی دشت غم تلک
دل جا چکا تھا اور یہ ہجرت عجیب تھی
ملنے کی آرزو، نہ بچھڑنے کا کچھ ملال
ہم کو اس آدمی سے محبت عجیب تھی
آنکھیں ستارہ ساز تھیں باتیں کرشمہ ساز
اس یار سادہ رو کی طبیعت عجیب تھی

A_k_47
 

ہر زخمِ دروں جسم پہ بیدار رہے گا
جب چشمِ دریدہ مِرا غمخوار رہے گا
رہ جائیں گے اِس گھر میں کسی یاد کے آسیب
ہم ہونگے نہ یہ سایہ ءِ دیوار رہے گا
دل بس میں نہیں ہوتا اگر ہو بھی کسی طور
پھر بھی غمِ اکبر کا عزادار رہے گا
کب تک میں اِسی آنکھ کو دکھ دیتا رہوں گا
کب تک یہی آئینہ مِرا یار رہے گا!

A_k_47
 

سرخ رو کارِ جہاں ، محفلِ دل بے رونق
بھر دیا رنگ کہاں ہم نے ، کہاں بھرنا تھا
وقت لازم ہے مگر اے دلِ برباد تجھے
جسم کی موت سے پہلے تو نہیں مرنا تھا

A_k_47
 

ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں
ایک دوسرے کو ہجر بھیجا
تم میرے ہونٹوں سے
کسی ان چاہے اظہار کے طرح بچھڑ گئے
اور میں تمہاری آنکھوں سے
آنسوؤں کی طرح بے دخل ہوگی
کسی میز پر آج بھی دو موم بتیاں
بڑی شدت سے جل رہی ہوں گی
مگر ہم روشنی کا مقدمہ ہار گئے تھے
دیکھو ہمارے اندر
کتنی تاریکیاں بھری ہوئی ہیں
کیا تمہیں کوئی راستہ سجھائی دیتا ہے؟
میں بھول چکی ہوں دروازہ کس طرف تھا؟
#moona_lisa
#عشق_اور_هم

A_k_47
 

کبھی کسک جدائی کی کبھی مہک وصال کی
قدم نہ تھے زمیں پہ جب وہ عمر تھی کمال کی
کئی دنوں سے فکر کا افق اداس اداس ہے
نہ جانے کھو گئی کہاں دھنک ترے خیال کی
رفاقتوں کے وہ نشاں نہ جانے کھو گئے کہاں
وہ خوشبوؤں کی رہ گزر وہ رتجگوں کی پالکی
کسی کو کھو کے پا لیا کسی کو پا کے کھو دیا
نہ انتہا خوشی کی ہے نہ انتہا ملال کی
وہ روشنی کا خواب تھا مگر وہی سراب تھا
عروج میں چھپی ہوئی تھی ابتدا زوال کی

A_k_47
 

غزلوں کی دھنک اوڑھ ، میرے شعلہ بدن تُو
ہے میرا سخـن تُو ، میرا موضوعِ ســـخن تُو
کلیــــوں کی طرح پُـــــــھوٹ سـرِ شاخِ تمنّا
خوشبو کی طرح پھیل ، چمن تا بــہ چمن تُو

A_k_47
 

ھـوش کا کتنا تناسب ھـو بتا دے مجھ کو
???
اور اس عشق میں درکار ہـے وحشت کتنی
دیکھ یہ ہاتھ میرا اور بتا اے دست شناس
ہجر کتنا ہے مقدر میں اور ہـے محبت کتنی ???

A_k_47
 

مُدّتوں بعد ھی آتا ھے نیا پَن مُجھ میں
مُدّتوں بعد ھی میں نَغمہ سَرا ھوتا ہُوں
زرد موسَم میں مُجھے چھوڑ کے جانے والے
میں ترے لَمس کی حِدّت سے ہَرا ھوتا ہُوں

A_k_47
 

کھینچ کر رات کی دیوار پہ مارے ہوتے
میرے ہاتھوں میں اگر چاند ، ستارے ہوتے
یہ جو آنسو ہیں ، مری پلکوں پہ پانی جیسے
اس کی آنکھوں سے ابھرتے تو ستارے ہوتے
اتنی حیرت تمہیں مجھ پر نہیں ہونی تھی اگر
تم نے کچھ روز مری طرح گزارے ہوتے
یہ جو ہم لوگ ہیں احساس میں جلتے ہوئے لوگ
ہم زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے
تم کو انکار کی خو مار گئی ہے واحد
ہر بھنور سے نہ الجھتے تو کنارے ہوتے

A_k_47
 

دِل تھا کہ ، پُھول بَن کے بِکھرتا چَلا گیا
تَصوِیر کا جَمال ٫ اُبھرتا چَلا گیا
شام آئی ، اور آئی ٫ کُچھ اِس اَھتمام سے
وہ گیسُوئے دَراز ، بِکھرتا چَلا گیا
غَم کی لَکیر تھی ، کہ خوُشی کا اُداس رَنگ
ھر نَقش آئینے میں ، اُبھرتا چَلا گیا
ھر چَند راستے میں تھے ٫ کانٹے بِچھے ھُوئے
جس کو تیری طلب تھی ، گُزرتا چَلا گیا
جب تک تیری نِگاہ نے ، توفِیق دی مُجھے
میں تیری زُلف بن کے ، سَنورتا چَلا گیا
دو ھی تو کام تھے ، دِلِ ناداں کو اے عدمؔ
جِیتا چَلا گیا ، کبھی مَرتا چَلا گیا۔

A_k_47
 

تیرے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہے
میری دنیا ہے یہی مجھ کو یہیں رہنا ہے
کام جو عمر رواں کا ہے اسے کرنے دے
میری آنکھوں میں سدا تجھ کو حسیں رہنا ہے
دل کی جاگیر میں میرا بھی کوئی حصہ رکھ
میں بھی تیرا ہوں مجھے بھی تو کہیں رہنا ہے
آسماں سے کوئی اترا نہ صحیفہ نہ سہی
تو مرا دیں ہے مجھے صاحب دیں رہنا ہے
جیسے سب دیکھ رہے ہیں مجھے اس طرح نہ دیکھ
مجھ کو آنکھوں میں نہیں دل میں مکیں رہنا ہے
پھول مہکیں گے یوں ہی چاند یوں ہی چمکے گا
تیرے ہوتے ہوئے منظر کو حسیں رہنا ہے
میں تری سلطنت حسن کا باشندہ ہوں
مجھ کو دنیا میں کہیں اور نہیں رہنا ہے

A_k_47
 

وہ جو الجھے الجھے خیال تھے، کوئی جال تھے
یہ جو سلجھا سلجھا کلام ہے، ترے نام ہے
وہ گماں کے جتنے پڑاؤ تھے ، مرے چاؤ تھے
یہ یقیں جو مست خرام ہے ترے نام ہے
وہ جو تشنگی سرِ آب تھی، ترا خواب تھی
یہ جو موج موج کا جام ہے، ترے نام ہے
وہ جو ٹمٹماتا چراغ تھا ، مرا داغ تھا
یہ جو نورِ ماہِ تمام ہے ترے نام ہے
وہ جو آنسوؤں بھری رات تھی مری بات تھی
یہ جو قہقہوں بھری شام ہے، ترے نام ہے
وہ جو راستوں کا غبار تھا ، کسے بار تھا
یہ جو منزلوں کا مقام ہے، ترے نام ہے

A_k_47
 

یہ کب کہتی ہوں ، تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ.
وہیں سے لوٹ جانا تم، جہاں بے زار ہو جاؤ
ملاقاتوں میں وقفہ اس لئے ہونا ضروری ہے
کہ تم اک دن جدائی کے لئے تیار ہو جاؤ
بہت جلد سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو
بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہو جاؤ
بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو
بس اب ایسا کرو تم سایۂ دیوار ہو جاؤ
ابھی پڑھنے کے دن ہیں لکھ بھی لینا حالِ دل اپنا
مگر لکھنا تبھی جب لائق اظہار ہو جاؤ

A_k_47
 

یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے
مجھ کو حالات نے مارا ہے مکمل کر کے
جانب شہر فقیروں کی طرح کوہ گراں
پھینک دیتا ہے بخارات کو بادل کر کے
جل اٹھیں روح کے گھاؤ تو چھڑک دیتا ہوں
چاندنی میں تری یادوں کی مہک حل کر کے
دل وہ مجذوب مغنی کہ جلا دیتا ہے
ایک ہی آہ سے ہر خواب کو جل تھل کر کے
جانے کس لمحۂ وحشی کی طلب ہے کہ فلک
دیکھنا چاہے مرے شہر کو جنگل کر کے
عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ
اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

A_k_47
 

اب نہ بکھرے گا مرے ضبط کا مادہ وعدہ
کر لیا ترکِ تعلق کا ارادہ وعدہ
تو مرے زخمِ تمنا کو ذرا اور بڑھا
کر دیا خانہءِ دل اور کشادہ۔۔۔۔۔ وعدہ
مستیِ نشہءِ دلدار میں جھومیں گے سدا
گر پلا دے تُو ہمیں آنکھ سے بادہ، وعدہ
آخری بار ہمیں لوٹنے دے واپس کو
پھر نہ آئیں گے تری سمت کو وعدہ، وعدہ
اک اذیت ہی بہت ہے ہمیں تا عمر حسیب
اب نہ پہنیں گے کبھی عشق لبادہ وعدہ

A_k_47
 

ہجر جب طے ہے تو بے کار نہ حجت کرنا
جانے والے کو بہت پیار سے رخصت کرنا
وہ جو بھیجے تھے تری مست نگاہوں نے پیام
ایک بار اور ذرا ان کی وضاحت کرنا
سب کے ہاتھوں میں یہ اعجاز مسیحائی کہاں
ایک ہی لمس کا منصب ہے کرامت کرنا
یہ تو ایسا ہے کہ اس راہ میں چل پڑیے
عشق کرنا تو بغیر اذن و اجازت کرنا
درد اٹھتا بھی رہے آنکھ سے چھلکے بھی نہیں
سیکھتے سیکھتے آتا ہے شکایت کرنا
ہم کو آداب محبت نہیں آتے سیماؔ
ہم کو بس ٹوٹ کے آتا ہے محبت کرنا

A_k_47
 

میں آپ کی تہمت کی وضاحت دوں
آپ کو لگتا ہے آپ اتنے اہم ہونگے ...
یعنی اپنی نظر میں معتبر ہیں آپ
معزرت کے ساتھ، آپ کو وہم ہونگے___🔥

A_k_47
 

وہ اگر اب بھی کوئی عہد نبھانا چاہے
دل کا دروازہ کھلا ہے جو وہ آنا چاہے
عین ممکن ہے اسے مجھ سے محبت ہی نہ ہو
دل بہر طور اسے اپنا بنانا چاہے
دن گزر جاتے ہیں قربت کے نئے رنگوں سے
رات پر رات ہے وہ خواب پرانا چاہے
اک نظر دیکھ مجھے!! میری عبادت کو دیکھ!!
بھول پائے گا اگر مجھ کو بھلانا چاہے
وہ خدا ہے تو بھلا اس سے شکایت کیسی؟
مقتدر ہے وہ ستم مجھ پہ جو ڈھانا چاہے
خون امڈ آیا عبارت میں، ورق چیخ اٹھے
میں نے وحشت میں ترے خط جو جلانا چاہے
نوچ ڈالوں گی اسے اب کے یہی سوچا ہے
گر مری آنکھ کوئی خواب سجانا چاہے

A_k_47
 

اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
کسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب آئیں تو لوٹ آنا
ابھی نئی وادیوں، نئے منظروں میں رہ لو مگر میری جاں
یہ سارے اک ایک کر کے جب تم کو چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا
جو شام ڈھلتے ہی اپنی اپنی پناہ گاہوں کو لوٹتے ہیں
اگر وہ پنچھی کبھی کوئی داستاں سنائیں تو لوٹ آنا
نئے زمانوں کا کرب اوڑھے ضعیف لمحے نڈھال یادیں
تمھارے خوابوں کے بند کمروں میں لوٹ آئیں تو لوٹ آنا
میں روز یونہی ہوا پہ لکھ لکھ کے اس کی جانب یہ بھیجتا ہوں
کہ اچھے موسم اگر پہاڑوں پہ مسکرائیں تو لوٹ آنا
اگر اندھیروں میں چھوڑ کر تم کو بھول جائیں تمھارے ساتھی
اور اپنی خاطر ہی اپنے اپنے دیے جلائیں تو لوٹ آنا
مری وہ باتیں تو جن پہ بے اختیار پنستا تھا کھلکھلا کر
بچھڑنے والے مری وہ باتیں کبھی رلائیں تو لوٹ آنا۔ ۔

A_k_47
 

ہمارے دل میں کہیں درد ہے ؟ نہیں ہے نا !
ہمارا چہرہ بَھلا زرد ہے ؟ نہیں ہے نا !
سُنا ہے' آدمی مر سکتا ہے' بچھڑتے ہوئے
ہمارا ہاتھ چُھوؤ ' سرد ہے ؟ نہیں ہے نا !
سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے
ہمارے رخ پہ کہِیں گرد ہے ؟ نہیں ہے نا !