ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتا
میں پیشہ ور فریبی ہوں، محبت کر نہیں سکتا
میں تم سے صاف کہتا ہوں، مجھے تم سے نہیں الفت
فقط لفظی محبت ہے، میں تم پہ مر نہیں سکتا
محبت کی مسافت نے بہت زخمی کیا مجھ کو
ابھی یہ زخم بھرنے ہیں، میں آہیں بھر نہیں سکتا
یہاں ہر ایک چہرے پر الگ تحریر لکھی ہے
میری آنکھوں میں آنسو ہیں، ابھی کچھ پڑھ نہیں سکتا
میں اپنی رات کی زلفوں میں خود چاندی سجاتا ہوں
میں اس کی مانگ میں وعدوں کے ہیرے جَڑ نہیں سکتا
" بھلے جھوٹا منافق ہوں، بہت دھوکے دئیے، لیکن
محبت کی صدا ہوں میں، میں دھوکا کر نہیں سکتا "
میں اس گھر کا مقیمی ہوں، جسے اوقات کہتے ہیں
میں اپنی حد میں رہتا ہوں، سو آگے بڑھ نہیں سکتا
ابھی کچھ شعر رہتے ہیں، مگر لکھنے نہیں ہرگز
کسی کی لاج رکھنی ہے، سو ظاہر کر نہیں سکتا.
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے
خامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا
پاس رہ کر بھی ہمیشہ وہ بہت دور ملا
اس کا انداز تغافل تھا خداؤں جیسا
کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احساس مآل
پھول کھل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا
پھر تری یاد کے موسم نے جگائے محشر
پھر مرے دل میں اٹھا شور ہواؤں جیسا
بارہا خواب میں پا کر مجھے پیاسا محسنؔ
اس کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا
دُشمن ہے‘ اور ساتھ رہے جان کی طرح
مُجھ میں اُتر گیا ہے وُہ سرطان کی طرح
جکڑے ہُوئے ہے تن کو مِرے‘ اُس کی آرزو
پھیلا ہُوا ہے جال سا ، شریان کی طرح
دِیوار و دَر نے جس کے لیے ہجر کاٹے تھے
آیا تھا چند روز کو مہمان کی طرح
دُکھ کی رُتوں میں پیڑ نے تنہا سفر کِیا
پتّوں کو پہلے بھیج کے سامان کی طرح
گہرے خنک اندھیرے میں اُجلے تکلّفات
گھر کی فضا بھی ہوگئی شیزان کی طرح
ڈوبا ہُوا ہے حُسنِ سُخن میں سکوتِ شب
تارِ ربابِ رُوح میں کلیان کی طرح
آہنگ کے جمال میں انجیل کی دُعا
نرمی میں اپنی ”سورۂ رحمان“ کی طرح
🌹اَے عِشق نہیں ممکن اَب لَوٹ کَے گھر جانا
یا دِل میں اُتَر جانا یا دِل سے اُتَر جانا🌹
ہَنستا گُلِ تَر کوئی جَب دیکھا تَو یاد آیا
تاریخ میں صَدیوں کا لَمحوں میں گُذَر جانا
🌹ہَر ذَرَّہِ خاکی میں اِک عِشق کی دُنیا تھی
تُم نے تَو ہَمیَں جاناں ! بَس خاک بَسَر جانا🌹
ہو جَذب کی جَب مَنزِل ہَستی و عَدَم کیسے؟
کیا پار اُتَرنا اُور کیا ڈُوب کَے مَر جانا
ہے آتشِ اُلفَت سے یہ طُرفہ سُلوک اُن کا
آنکھوں سے ہَوا دینا ہونٹوں سے مُکَر جانا
🌹ہَر سانس کے آنے سے ہَر سانس کے جانے تَک
ہَستی کو سَدا ضامنؔ مُہلَت کا سَفَر جانا🌹
درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا
آئنہ دیکھنے والے تجھے مر جانا تھا
راہ میں ایسے نقوش کف پا بھی آئے
میں نے دانستہ جنہیں گرد سفر جانا تھا
وہم و ادراک کے ہر موڑ پہ سوچا میں نے
تو کہاں ہے مرے ہم راہ اگر جانا تھا
آگہی زخم نظارہ نہ بنی تھی جب تک
میں نے ہر شخص کو محبوب نظر جانا تھا
قربتیں ریت کی دیوار ہیں گر سکتی ہیں
مجھ کو خود اپنے ہی سائے میں ٹھہر جانا تھا
تو کہ وہ تیز ہوا جس کی تمنا بے سود
میں کہ وہ خاک جسے خود ہی بکھر جانا تھا
آنکھ ویران سہی پھر بھی اندھیروں کو نصیرؔ
روشنی بن کے مرے دل میں اتر جانا تھا
مرے ہمسفر! تری نذر ہیں مری عمر بھر کی یہ دولتیں
مرے شعر، میری صداقتیں، مری دھڑکنیں، مری چاہتیں
تجھے جذب کرلوں لہو میں میں کہ فراق کا نہ رہے خطر
تری دھڑکنوں میں اتار دوں میں یہ خواب خواب رفاقتیں
یہ ردائے جاں تجھے سونپ دوں کہ نہ دھوپ تجھ کو کڑی لگے
تجھے دکھ نہ دیں مرے جیتے جی سرِ دشت غم کی تمازتیں
مری صبح تیری صدا سے ہو، مری شام تیری ضیا سے ہو
یہی طرز پرسشِ دل رکھیں تری خوشبوں کی سفارتیں
کوئی ایسی بزم بہار ہو میں جہاں یقین دلا سکوں
کہ ترا ہی نام ہے فصلِ گل، کہ تجھی سے ہیں یہ کرامتیں
ترا قرض ہیں مرے روز و شب، مرے پاس اپنا تو کچھ نہیں
مری روح ، میری متاعِ فن ، مرے سانس تیری امانتیں
خواب کدھر چلا کیا' یاد کہاں سما گئی ؟؟
چشم و چراغِ عشق کو ' کون ہَوا بُجھا گئی ؟
ہجر تو جاگتا رہا ' روح کے درد زار میں
جسم کی خواب گاہ میں' وصل کو نیند آ گئی
وقت نے ختم دیئے ' سارے وسیلے شوق کے
دل تھا ' اُلٹ پُلٹ گیا ' آنکھ تھی ' بُجھ بُجھا گئی
ایک تمہارے دل میں تھا' ایک تھا میری آنکھ میں
آندھی چلی فراق کی ' دونوں گھروندے ڈھا گئی
رنگ بَہ رنگ تِتلیو !! اب کِسے ڈھونڈتی ہو تم؟
خوش بُو کو لے گئی ہَوا ' پھول کو خاک کھا گئی
نرم لبوں سے سخت بات' ایسے ادا ہُوئی کہ بَس
شہد میں مِل گیا نمک ' دن میں ہی رات چھا گئی
صبر کی رہ گذار پر ' ایسے مِلی شبِ طرَب
مجھ کو بھی ڈَگمگا دیا ' آپ بھی لڑکھڑا گئی
جسم تو خیر جسم تھا ' جسم کا تذکِرہ ہی کیا
ایک نگاہ میں وہ آنکھ ' رُوح کے بھید پا گئی
جس حال میں تُم رکھو وہی حال مُبارک
ہم اہلِ محبت کو نیا سال مُبارک
ہر دل کو ہو مُنہ مانگی مُرادوں کی بشارت
ہر آنکھ کو من چاہے خدوخال مبارک
ہر پَھیلی ہتھیلی کی دُعاؤں کو دُعائیں
ہر پاؤں کو منزل کی طرف چال مُبارک
یخ بستہ شبِ ہجر کی برفیلی ہَوا میں
مُجھ کو ترا غم، تجھ کو تری شال مُبارک
ہرچند تُجھے اُس نے فقط درد دیے ہیں
فارس ! تُجھے یہ عشق بہَرحال مُبارک !
ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا
اُسے یاد کر کے نہ دل دُکھا، جو گزر گیا سو گزر گیا
نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے، یونہی راستے میں جُدا ہوئے
نہ تُو بے وفا نہ میں بے وفا، جو گزر گیا سو گزر گیا
وہ غزل کی ایک کتاب تھا، وہ گُلوں میں ایک گلاب تھا
ذرا دیر کا کوئی خواب تھا ، جو گزر گیا سو گزر گیا
مجھے پت جھڑوں کی کہانیاں ،نہ سنا سنا کر اداس کر
تُو خزاں کا پھول ہے مُسکرا ، جو گزر گیا سو گزر گیا
وہ اُداس دھوپ سمیٹ کر، کہیں وادیوں میں اُتر چکا
اُسے اب نہ دے میرے دل صدا، جو گزر گیا سو گزر گیا
یہ سفر بھی کتنا طویل ہے، یہاں وقت بھی کتنا قلیل ہے
کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا، جو گزر گیا سو گزر گیا
وہ وفائیں تھیں یا جفائیں تھیں، یہ نہ سوچ کس کی خطائیں تھیں
وہ تیرا ہے اُس کو گلے لگا ، جو گزر گیا سو گزر گیا
میرا جنُونِ شوق، وہ عرضِ وفا کے بعد
وہ شانِ احتیاط تِری ہر ادا کے بعد
تیری خبر نہیں، مگر اتنی تو ہے خبر
تُو اِبتدا سے پہلے ہے، تُو اِنتہا کے بعد
ہوتے کہیں ہو، اور بتاتے کہیں ہو تم
اس درجہ احتیاط سے، تھکتے نہیں ہو تم
جیسا دکھائی دینے کی، کرتے ہو کوششیں
میں خوب جانتا ہوں، ایسے نہیں ہو تم
ہاں، ہاں، تم پہ ناز کرتی ہیں، وعدہ خلافیاں
ہاں میرے انتظار کے، لائق نہیں ہو تم
اتنا آساں تو نہیں عمر کا کٹنا، تنہا
جانا ہمراہ ترے اور پلٹنا، تنہا
دکھ بچھڑنے کا نہیں اسکی اِسی بات کا ہے
"اب مسائل سے مری جان نمٹنا، تنہا"
اچھا لگتا ہے بھرے شہر سے کٹ کر کومل
اس کے خوش رنگ خدو خال کو رٹنا، تنہا
سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا
اے میں سو جان سے اس طرز تکلم کے نثار
پھر تو فرمائیے کیا آپ نے ارشاد کیا
اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد
اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا
اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی
جھک کے میں نے یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا
میری ہر سانس ہے اس بات کی شاہد اے موت
میں نے ہر لطف کے موقع پہ تجھے یاد کیا
مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا
کچھ نہیں اس کے سوا جوشؔ حریفوں کا کلام
وصل نے شاد کیا ہجر نے ناشاد کیا
گردش میں ہیں جب تک تری مخمور نگاہیں
ساغر کی طرح دل بھی چھلکتا ہی رہے گا
اس آئینہ خانے میں سبھی عکس ہیں تیرے
اس آئینہ خانے میں تو یکتا ہی رہے گا
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب سرِ رہ گزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے شب انتظار چلی گئی
مرے ضبطِ حال سے روٹھ کر مرے غم گسار چلے گئے
نہ سوالِ وصل نہ عرضِ غم نہ حکایتیں نہ شکایتیں
ترے عہد میں دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے
وہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گئے
نہ رہا جنونِ رُخِ وفا یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے
ہر بار محبت میں خسارا نہیں ہوگا
یہ وہم تھا تیرا کہ گزارا نہیں ہوگا
تقدیر کے ہاتھوں کا لکھا مان لیا ہے
اب تیری طرف میرا اشارا نہیں ہوگا
ہم دل کی لکیروں سے مٹا دیں گے ترا نقش
پھر تجھ سے کوئی ربط ہمارا نہیں ہوگا
تم دیکھنا اک دن یہ بہاریں نہیں رہنی
صحرا میں کوئی پھول دوبارہ نہیں ہوگا
جب ترک کیا ہم نے تعلق تو یہ دیکھا
اب دل پہ ترا قبضہ گوارا نہیں ہوگا
ہم ہیں تو تجھے اور بھی مل جاتے ہیں آ کر
جب ہم نہ رہے کوٸی تمھارا نہیں ہوگا
اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے
عشق کی راکھ کو سینے سے لگایا ہم نے
درد کی آگ کو شعلوں سے شناسا کر کے
لذت ہجر کی حدت کو چھپایا ہم نے
روح کی پیاس بجھانے کا ارادہ باندھا
وادیٔ عشق میں اک پھول کھلایا ہم نے
ایک بے پردہ محبت کو سمجھ کر سچ ہے
جبر کو صبر کا ہم راز بنایا ہم نے
راہ کی دھول کو راہبر ہی سمجھ بیٹھے تھے
آبلہ پا تھے مگر نام کمایا ہم نے
تیرے ہونٹوں کے لئے باغ کی شرطیں مانیں
پھول کے جسم سے رنگوں کو چرایا ہم نے
دل کی کشتی کو کنارے سے لگایا کشورؔ
اور پھر اس میں محبت کو بٹھایا ہم نے
ایسے خَادم جُو میسر تُجھے بے دَام کہ تھے
ہم جو بیکار بھی تھے پھر بھی تیرے کام کے تھے
اُلجھنیں جتنی بھی تھی ساری ہی تیری یاد کی تھیں
اَشک آنکھوں میں تھے جتنے بھی تیرے نام کہ تھے
ہم نے واری ہے بصد شوقِ جَوانی تُجھ پر
تُجھ پہ قربان ہوئے دن کہ جو آرام کے تھے...!!
مجھے بجھا دے مرا دور مختصر کر دے
مگر دیئے کی طرح مجھ کو معتبر کر دے
بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کی عمر ہی کتنی
میں تیری شام ہوں آ جا مری سحر کر دے
جدائیوں کی یہ راتیں تو کاٹنی ہوں گی
کہانیوں کو کوئی کیسے مختصر کر دے
ترے خیال کے ہاتھوں کچھ ایسا بکھرا ہوں
کہ جیسا بچہ کتابیں ادھر ادھر کر دے
وسیمؔ کس نے کہا تھا کہ یوں غزل کہہ کر
یہ پھول جیسی زمیں آنسوؤں سے تر کر دے
پامال ہوئے پھول ہیں گلدان پڑا ہے
ارمان کا ملبہ کہیں بہتان پڑا ہے
بے رنگ لفافے میں دبے آخری خط میں
اک زود فراموش کا پیمان پڑا ہے
وہ پنکھ جلا راکھ لپیٹے ہوئے بھنورا
اُس رات کی روداد سے انجان پڑا ہے
متروک سرائے کی طرح آج بھی دل میں
اک شخص کا چھوڑا ہوا سامان پڑا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain