Damadam.pk
A_k_47's posts | Damadam

A_k_47's posts:

A_k_47
 

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا
جلائے رکھوں گی صبح تک میں تمہارے رستوں میں اپنی آنکھیں
مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا
جو حرف لوح وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا
جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبارتیں بھی شمار کرنا
یہ سردیوں کا اداس موسم کہ دھڑکنیں برف ہو گئی ہیں
جب ان کی یخ بستگی پرکھنا تمازتیں بھی شمار کرنا
تم اپنی مجبوریوں کے قصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے
جو میری آنکھوں میں جل بجھی ہیں وہ خواہشیں بھی شمار کرنا

A_k_47
 

اے فسانہ ءِ عشق میں ترا مترجم تو نہیں پر
لوگ مرے چہرے سے ترا مفہوم اَخذ کرتے ہیں
کچھ تو کہتے ہیں کہ میں عکسِ سراپا ہوں ترا
اور کچھ اس کارِ اُلفت کا مَجزوم اخذ کرتے ہیں

A_k_47
 

ہلکی خوشنمائی؀ سانسوں کی قربت کی لَے،چاندی بدن نکہت
؀ اے نرم لمحوں کی شبنمی کنیز"♡❤●•◦
تمہارا انتخاب کوئی اتفاق نہیں تھا یہ دل کی سب سے سنجیدہ ضد تھی_______✍️

A_k_47
 

جمالِ ترتیب؀حسن کا سلیقہ،پیکرِ اعتدال
" اے توازن کی مثال "♡❤●•◦
تمہارا وجود
ایک ایسے باغ کی مانند ہے
جہاں صبحیں
اجازت لے کر اترتی ہیں
اور شامیں
شکر ادا کر کے رخصت ہوتی ہیں
_______✍️

A_k_47
 

کس عمر میں کر بیٹھے تھے دل اُن کے حوالے
نا بات سمجھتے تھے نا جذبات سمجھتے
ہوتی ہے ہر اِک بات کی اِک عمر تو لیکن
اِک عمر گُزر جاتی ہے یہ بات سمجھتے

A_k_47
 

اب نہیں جیتنے میں کوئی نشہ
تم سے پائی جو مات کافی ھے
کر لی اونچی فصیل دل ھم نے
ایـــک ھـــی واردات کافـــی ھے

A_k_47
 

مرا گھاؤ صَدقہء شوق تھا، سو ہرا رہا
یہ کسک نوازشِ یار تھی، سو بحال ہے

A_k_47
 

ھر دَرد پہن لینا ، ھر خُواب میں کھو جانا
کیا اَپنی طبیعت ھے ، ھَر شَخص کا ھو جانا
اِک شہر بَسا لینا ، بِچھڑے ھُوئے لوگوں کا
پِھر شَب کے جَزیرے میں ، دّل تھام کے سو جانا
موضُوعِ سُخن کُچھ ھو ، تا دیر اُسے تَکنا
ھر لفظ پہ رُک جانا ، ھَر بات پہ کھو جانا
آنا تو بِکھر جانا ، سانسوں میں مَہک بن کر
جانا تو کلیجے میں ، کانٹے سے چبھو جانا
جاتے ھُوئے چُپ رَھنا ، اُن بولتی آنکھوں کا
خاموش تَکلم سے ، پَلکوں کو بِھگو جانا
لفظوں میں اُتر آنا ، اُن پُھول سے ھونٹوں کا
اِک لَمس کی خوشبُو کا ، پوروں میں سَمو جانا
ھَر شام عَزائم کے ، کُچھ مَحل بنا لینا
ھَر صُبح اِرادوں کی ٫ دَھلیز پہ سو جانا

A_k_47
 

سیاہ رات نے جھوٹی یہ بات پھیلائی
چراغ بانجھ ہوئے، جگنوؤں کو موت آئی
یہ کس نے زرد رو پیشانیوں پہ لمس دھرا
کہ ڈھلتی آس نے لی پھر دلوں میں انگڑائی
جمالیات کا سب سے حسین مظہر ہیں
تمھاری دل نشیں آنکھیں ، لبوں کی رعنائی
سہارا ہونا ہے خود ہی کو اپنا، آخرکار
مجھے یہ بات سہاروں نے مل کے سمجھائی
میں سایہ دار درختوں سے ملنے پہنچا تو
کڑکتی دھوپ وہاں اپنی منتظر پائی
قضا نے کاٹ دی اس وقت خواب کی شہ رگ
میں جب بڑھانے لگا نیند سے شناسائی

A_k_47
 

صبر کے جتنے تقاضے تھے وہ پورے رکھے
پھر بھی سینے میں کوئی کتنے کلیجے رکھے!
تو قضأ کرتا رہا ہم کو نمازوں کی طرح
ہم نے عیدوں پہ ترے نام کے روزے رکھے

A_k_47
 

عید پھیکی لگ رہی ہے ، عشق کی تاثیر بھیج
آ گلے مل یا لباسِ عید میں تصویر بھیج
تیری خوشبو اور کھنک میں خط سے کرلوں گا کشید
چوڑیوں والے حنائی ہاتھ کی تحریر بھیج

A_k_47
 

راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!
شعلۂ ہستِ بے نمود! کیا یہ ترا زیاں نہیں؟
کون سُنے گا وقت اور جسم کا یہ مکالمہ:-
’’زخم کوئی بھرا؟‘‘ نہیں! : ’’ختم ہُوا نشاں؟‘‘ نہیں!
مہر بہ لب ہے شاخ شاخ، سایہ اُداس اُداس ہے
برگدِ خواب کے تلے، کوئی بھی کارواں نہیں
دیکھتے دیکھتے اُڑی، دِل کی فضا میں اک پری
جانے وہ پھر کدھر گئی! (اور، یہ داستاں نہیں)
میرے جُھلسنے سے ذرا تیز تو ہو گئی یہ لَو
ہوں تو مَیں رائگاں مگر، ایسا بھی رائگاں نہیں!
کیسے کہوں یہاں ہے تُو! کیسے کہوں وہاں ہے تُو!
کہنے کو اب کہاں ہے تُو! پھر بھی کہاں کہاں نہیں!
روتے ہیں لوگ زار زار، مَلتے ہیں آنکھیں بار بار
یہ تو نہیں ہے وہ زمیں! یہ تو وہ آسماں نہیں !

A_k_47
 

طریقہ یہ بھی ہے , اک امتحان جذبۂ دل کا !
تمہاری بے رخی کو بد گمانی کون کہتا ہے۔۔
فنا ہو کر بھی حاصل ہے , وہی رنگ بقا اس کا !
ہماری ہستئ فانی کو فانی کون کہتا ہے۔۔
ہزاروں رنج اس میں عرشؔ , لاکھوں کلفتیں اس میں !
محبت کو سرودِ زندگانی کون کہتا ہے۔۔

A_k_47
 

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا
جلائے رکھوں گی صبح تک میں تمہارے رستوں میں اپنی آنکھیں
مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا
جو حرف لوح وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا
جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبارتیں بھی شمار کرنا
یہ سردیوں کا اداس موسم کہ دھڑکنیں برف ہو گئی ہیں
جب ان کی یخ بستگی پرکھنا تمازتیں بھی شمار کرنا
تم اپنی مجبوریوں کے قصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے
جو میری آنکھوں میں جل بجھی ہیں وہ خواہشیں بھی شمار کرنا

A_k_47
 

چہرۂ انتخاب ؀ ادا کی سچائی، جمالِ اصول
" اے سنجیدہ کشش♡❤●•◦
اور جو لمحہ تمہاری آنکھیں میری آنکھوں میں اتر کر ٹھہرتی ہیں…
وہ لمحہ پوری کائنات کا سب سے حسین اعتراف ہوتا ہے—
محبت کا، خواہش کا اور ہم دونوں کی خاموش گہرائیوں کا۔
,,,_____✍️

A_k_47
 

چشمِ فیصلہ؀ ہاں یا نہیں کی حد، وقارِ قطعیت
" اے ابہام سے پاک "♡❤●•◦
تمہاری نظر…میری روح کی دراڑوں میں بہہ کر
میرے اندر ایسی تپش جگا دیتی ہے
جس میں میں بار بار
خود کو تم پر قربان کرنا چاہتا ہوں۔
ـــــ..✍️

A_k_47
 

یاد آوں تو بس اتنی سی عنایت کرنا
اپنے بدلے ہوئے لہجے کی وضاحت کرنا
تم تو چاہت کا شاہکار ہوا کرتے تھے
کس سے سیکھا ہے اُلفت میں ملاوٹ کرنا
ہم سزاوں کے حق دار بنے ہیں کب سے
تم ہی کہہ دو کہ جُرم ہے کیا محبت کرنا ؟
تیری فُرقت میں یہ آنکھیں ابھی تک نم ہیں
کبھی آنا میری آنکھوں کی زیارت کرنا
دل میں اب بھی محبت کے دیئے ہیں روشن
دیکھ بھولے نہیں تیری ہستی کی عبادت کرنا۔۔✍️

A_k_47
 

موسم تھا بے قرار تجھے سوچتے رہے
کل رات بار بار تجھے سوچتے رہے
مدت کے بعد پھر تری یادوں کے ساتھ ساتھ
بارش ہوئی تو گھر کے دریچے سے لگ کے ہم
چپ چاپ سوگوار تجھے سوچتے رہے
کل رات بار بار تجھے سوچتے رہے
آنگن میں بیٹھ کر تو کبھی رہگزار میں
پیڑوں سے لگ کے اور کبھی دیوار و در کے ساتھ
کر کر کے انتظار تجھے سوچتے رہے
کل رات بار بار تجھے سوچتے رہے
دل بھی جلا جلا سا تھا آنکھیں بجھی بجھی
اس حال میں بھی ساجناں خواب و خیال پر
جتنا تھا اختیار تجھے سوچتے رہے
کل رات بار بار تجھے سوچتے رہے ۔۔۔!

A_k_47
 

ورنہ اسے تعزیر نہ زنجیر کا ڈر ہے
قیدی کو فقط زہر بجھے تیر کا ڈر ہے
مسمار کا خدشہ تو بہت بعد میں ، پہلے
اک کھوکھلی بنیاد پہ تعمیر کا ڈر ہے
جو مجھ کو ڈراتا ہے مری نیند میں اکثر
اس ایک برے خواب کی تعبیر کا ڈر ہے
اس گردشِ دنیا سے نکلتے ہوئے دل کو
کچھ دن سے فقط گردشِ تقدیر کا ڈر ہے
کم ظرف تھا وہ شخص جسے چوٹ دکھائی
اب مجھ کو مرے زخم کی تشہیر کا ڈر ہے

A_k_47
 

گھاؤ گنتے نہ کبھی" زخم شماری" کرتے
عشق میں ہم بھی اگر "وقت گزاری" کرتے
تجھ میں تو خیر محبت کے تھے پہلو ہی بہت
دشمن جاں بھی اگر ہوتا تو" یاری" کرتے۔
ہوگئے دھول تیرے راستے میں بیٹھے بیٹھے
بن گئے عکس تیری" آئینہ داری "کرتے۔
وقت آیا ہے جدائی کا تو اب سوچتے ہیں
تجھے اعصاب پہ اتنا بھی "نہ طاری" کرتے۔
ہوتے سورج تو ہمیں شاہِ فلک ہونا تھا
چاند ہوتے تو ستاروں پر "سواری "کرتے۔
کبھی ایک پل نہ ملا تختِ تخیل ورنہ
تیری ہر سوچ کو ہم "راجکماری" کرتے۔
آخری داؤ لگانا نہیں آیا "محسن"
زندگی بیت گئی خود کو "جواری" کرتے۔