محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا
جلائے رکھوں گی صبح تک میں تمہارے رستوں میں اپنی آنکھیں
مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا
جو حرف لوح وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا
جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبارتیں بھی شمار کرنا
یہ سردیوں کا اداس موسم کہ دھڑکنیں برف ہو گئی ہیں
جب ان کی یخ بستگی پرکھنا تمازتیں بھی شمار کرنا
تم اپنی مجبوریوں کے قصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے
جو میری آنکھوں میں جل بجھی ہیں وہ خواہشیں بھی شمار کرنا
اے فسانہ ءِ عشق میں ترا مترجم تو نہیں پر
لوگ مرے چہرے سے ترا مفہوم اَخذ کرتے ہیں
کچھ تو کہتے ہیں کہ میں عکسِ سراپا ہوں ترا
اور کچھ اس کارِ اُلفت کا مَجزوم اخذ کرتے ہیں
ہلکی خوشنمائی سانسوں کی قربت کی لَے،چاندی بدن نکہت
اے نرم لمحوں کی شبنمی کنیز"♡❤●•◦
تمہارا انتخاب کوئی اتفاق نہیں تھا یہ دل کی سب سے سنجیدہ ضد تھی_______✍️
جمالِ ترتیبحسن کا سلیقہ،پیکرِ اعتدال
" اے توازن کی مثال "♡❤●•◦
تمہارا وجود
ایک ایسے باغ کی مانند ہے
جہاں صبحیں
اجازت لے کر اترتی ہیں
اور شامیں
شکر ادا کر کے رخصت ہوتی ہیں
_______✍️
کس عمر میں کر بیٹھے تھے دل اُن کے حوالے
نا بات سمجھتے تھے نا جذبات سمجھتے
ہوتی ہے ہر اِک بات کی اِک عمر تو لیکن
اِک عمر گُزر جاتی ہے یہ بات سمجھتے
اب نہیں جیتنے میں کوئی نشہ
تم سے پائی جو مات کافی ھے
کر لی اونچی فصیل دل ھم نے
ایـــک ھـــی واردات کافـــی ھے
مرا گھاؤ صَدقہء شوق تھا، سو ہرا رہا
یہ کسک نوازشِ یار تھی، سو بحال ہے
ھر دَرد پہن لینا ، ھر خُواب میں کھو جانا
کیا اَپنی طبیعت ھے ، ھَر شَخص کا ھو جانا
اِک شہر بَسا لینا ، بِچھڑے ھُوئے لوگوں کا
پِھر شَب کے جَزیرے میں ، دّل تھام کے سو جانا
موضُوعِ سُخن کُچھ ھو ، تا دیر اُسے تَکنا
ھر لفظ پہ رُک جانا ، ھَر بات پہ کھو جانا
آنا تو بِکھر جانا ، سانسوں میں مَہک بن کر
جانا تو کلیجے میں ، کانٹے سے چبھو جانا
جاتے ھُوئے چُپ رَھنا ، اُن بولتی آنکھوں کا
خاموش تَکلم سے ، پَلکوں کو بِھگو جانا
لفظوں میں اُتر آنا ، اُن پُھول سے ھونٹوں کا
اِک لَمس کی خوشبُو کا ، پوروں میں سَمو جانا
ھَر شام عَزائم کے ، کُچھ مَحل بنا لینا
ھَر صُبح اِرادوں کی ٫ دَھلیز پہ سو جانا
سیاہ رات نے جھوٹی یہ بات پھیلائی
چراغ بانجھ ہوئے، جگنوؤں کو موت آئی
یہ کس نے زرد رو پیشانیوں پہ لمس دھرا
کہ ڈھلتی آس نے لی پھر دلوں میں انگڑائی
جمالیات کا سب سے حسین مظہر ہیں
تمھاری دل نشیں آنکھیں ، لبوں کی رعنائی
سہارا ہونا ہے خود ہی کو اپنا، آخرکار
مجھے یہ بات سہاروں نے مل کے سمجھائی
میں سایہ دار درختوں سے ملنے پہنچا تو
کڑکتی دھوپ وہاں اپنی منتظر پائی
قضا نے کاٹ دی اس وقت خواب کی شہ رگ
میں جب بڑھانے لگا نیند سے شناسائی
صبر کے جتنے تقاضے تھے وہ پورے رکھے
پھر بھی سینے میں کوئی کتنے کلیجے رکھے!
تو قضأ کرتا رہا ہم کو نمازوں کی طرح
ہم نے عیدوں پہ ترے نام کے روزے رکھے
عید پھیکی لگ رہی ہے ، عشق کی تاثیر بھیج
آ گلے مل یا لباسِ عید میں تصویر بھیج
تیری خوشبو اور کھنک میں خط سے کرلوں گا کشید
چوڑیوں والے حنائی ہاتھ کی تحریر بھیج
راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!
شعلۂ ہستِ بے نمود! کیا یہ ترا زیاں نہیں؟
کون سُنے گا وقت اور جسم کا یہ مکالمہ:-
’’زخم کوئی بھرا؟‘‘ نہیں! : ’’ختم ہُوا نشاں؟‘‘ نہیں!
مہر بہ لب ہے شاخ شاخ، سایہ اُداس اُداس ہے
برگدِ خواب کے تلے، کوئی بھی کارواں نہیں
دیکھتے دیکھتے اُڑی، دِل کی فضا میں اک پری
جانے وہ پھر کدھر گئی! (اور، یہ داستاں نہیں)
میرے جُھلسنے سے ذرا تیز تو ہو گئی یہ لَو
ہوں تو مَیں رائگاں مگر، ایسا بھی رائگاں نہیں!
کیسے کہوں یہاں ہے تُو! کیسے کہوں وہاں ہے تُو!
کہنے کو اب کہاں ہے تُو! پھر بھی کہاں کہاں نہیں!
روتے ہیں لوگ زار زار، مَلتے ہیں آنکھیں بار بار
یہ تو نہیں ہے وہ زمیں! یہ تو وہ آسماں نہیں !
طریقہ یہ بھی ہے , اک امتحان جذبۂ دل کا !
تمہاری بے رخی کو بد گمانی کون کہتا ہے۔۔
فنا ہو کر بھی حاصل ہے , وہی رنگ بقا اس کا !
ہماری ہستئ فانی کو فانی کون کہتا ہے۔۔
ہزاروں رنج اس میں عرشؔ , لاکھوں کلفتیں اس میں !
محبت کو سرودِ زندگانی کون کہتا ہے۔۔
محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا
جلائے رکھوں گی صبح تک میں تمہارے رستوں میں اپنی آنکھیں
مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا
جو حرف لوح وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا
جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبارتیں بھی شمار کرنا
یہ سردیوں کا اداس موسم کہ دھڑکنیں برف ہو گئی ہیں
جب ان کی یخ بستگی پرکھنا تمازتیں بھی شمار کرنا
تم اپنی مجبوریوں کے قصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے
جو میری آنکھوں میں جل بجھی ہیں وہ خواہشیں بھی شمار کرنا
چہرۂ انتخاب ادا کی سچائی، جمالِ اصول
" اے سنجیدہ کشش♡❤●•◦
اور جو لمحہ تمہاری آنکھیں میری آنکھوں میں اتر کر ٹھہرتی ہیں…
وہ لمحہ پوری کائنات کا سب سے حسین اعتراف ہوتا ہے—
محبت کا، خواہش کا اور ہم دونوں کی خاموش گہرائیوں کا۔
,,,_____✍️
چشمِ فیصلہ ہاں یا نہیں کی حد، وقارِ قطعیت
" اے ابہام سے پاک "♡❤●•◦
تمہاری نظر…میری روح کی دراڑوں میں بہہ کر
میرے اندر ایسی تپش جگا دیتی ہے
جس میں میں بار بار
خود کو تم پر قربان کرنا چاہتا ہوں۔
ـــــ..✍️
یاد آوں تو بس اتنی سی عنایت کرنا
اپنے بدلے ہوئے لہجے کی وضاحت کرنا
تم تو چاہت کا شاہکار ہوا کرتے تھے
کس سے سیکھا ہے اُلفت میں ملاوٹ کرنا
ہم سزاوں کے حق دار بنے ہیں کب سے
تم ہی کہہ دو کہ جُرم ہے کیا محبت کرنا ؟
تیری فُرقت میں یہ آنکھیں ابھی تک نم ہیں
کبھی آنا میری آنکھوں کی زیارت کرنا
دل میں اب بھی محبت کے دیئے ہیں روشن
دیکھ بھولے نہیں تیری ہستی کی عبادت کرنا۔۔✍️
موسم تھا بے قرار تجھے سوچتے رہے
کل رات بار بار تجھے سوچتے رہے
مدت کے بعد پھر تری یادوں کے ساتھ ساتھ
بارش ہوئی تو گھر کے دریچے سے لگ کے ہم
چپ چاپ سوگوار تجھے سوچتے رہے
کل رات بار بار تجھے سوچتے رہے
آنگن میں بیٹھ کر تو کبھی رہگزار میں
پیڑوں سے لگ کے اور کبھی دیوار و در کے ساتھ
کر کر کے انتظار تجھے سوچتے رہے
کل رات بار بار تجھے سوچتے رہے
دل بھی جلا جلا سا تھا آنکھیں بجھی بجھی
اس حال میں بھی ساجناں خواب و خیال پر
جتنا تھا اختیار تجھے سوچتے رہے
کل رات بار بار تجھے سوچتے رہے ۔۔۔!
ورنہ اسے تعزیر نہ زنجیر کا ڈر ہے
قیدی کو فقط زہر بجھے تیر کا ڈر ہے
مسمار کا خدشہ تو بہت بعد میں ، پہلے
اک کھوکھلی بنیاد پہ تعمیر کا ڈر ہے
جو مجھ کو ڈراتا ہے مری نیند میں اکثر
اس ایک برے خواب کی تعبیر کا ڈر ہے
اس گردشِ دنیا سے نکلتے ہوئے دل کو
کچھ دن سے فقط گردشِ تقدیر کا ڈر ہے
کم ظرف تھا وہ شخص جسے چوٹ دکھائی
اب مجھ کو مرے زخم کی تشہیر کا ڈر ہے
گھاؤ گنتے نہ کبھی" زخم شماری" کرتے
عشق میں ہم بھی اگر "وقت گزاری" کرتے
تجھ میں تو خیر محبت کے تھے پہلو ہی بہت
دشمن جاں بھی اگر ہوتا تو" یاری" کرتے۔
ہوگئے دھول تیرے راستے میں بیٹھے بیٹھے
بن گئے عکس تیری" آئینہ داری "کرتے۔
وقت آیا ہے جدائی کا تو اب سوچتے ہیں
تجھے اعصاب پہ اتنا بھی "نہ طاری" کرتے۔
ہوتے سورج تو ہمیں شاہِ فلک ہونا تھا
چاند ہوتے تو ستاروں پر "سواری "کرتے۔
کبھی ایک پل نہ ملا تختِ تخیل ورنہ
تیری ہر سوچ کو ہم "راجکماری" کرتے۔
آخری داؤ لگانا نہیں آیا "محسن"
زندگی بیت گئی خود کو "جواری" کرتے۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain