تمہیں جب ملیں کبھی فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو❝
میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو❝
مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال وخند______مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو مرے سارے زنگ اتار دو
مری وحشتوں کو بڑھا دیا ہے جدائیوں کے عزاب نے_____میرے دل پہ ہاتھ رکھو؛ ذرا مری دھڑکنوں کو قرار دو!!!
وہاں گھر میں کون ہے منتظر؟ کہ ہو فکر دیر سویر کی_______بڑی مختصر سی
یہ ❞رات❝ ہےاسے چاندنی میں گزار دو
◆◈◆◈◆◈◆◈◆◈◆◈◆◈◆◈◆◈◆◈◆
وہ چاند 🌙 چہرے وہ بہکی باتیں سلگتے دن تھے__ مہکتی راتیں
وہ چھوٹے چھوٹے کاغزوں پر محبتوں کے 💌پیام لکھنا__💌_💌_✍️
میرے نگر کی حسیں فضاؤ!! کہیں جو انکا نشان 👣 پاؤ________توپوچھنا یہ کہاں؟ بسے ہو؟
کہاں ہے ان کا قیام لکھنا___💌__✍️
ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں
میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں✎﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏🦋میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے
میں وہ ساٸیل ہوں جسے کوٸ صدایاد نہیں
✧══════•❁❀❁•══════✧
🅗🅔🅛🅛🅞🅦🅦😎🅔🅥🅔🅡🅨☝🅞🅝🅔
کہاں_؟
جوڑ پائیں گے
ہم ان ~دھڑکنوں~کو__ کہ
دل کی طرح ہم بھی ٹوٹے ہوۓ ہیں
وہ بجھے گھروں کا چراغ تھا یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
اسے لے گئ کہاں ہوا یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
وہ تمام دنیا کے واسطے جو محبتوں کی مثال تھا_، وہی اپنے گھر میں تھا بےوفا یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
مرے پاس جتنی ہے روشنی ہے یہی چراغ کی زندگی_، میں کہاں جلا میں کہاں بجھا یہ کبھی کسی کو خبر نہ ہو
میں کب؟
تنہا ہوا تھا "تمہں یاد ہوگا"
تمہارا ہی فیصلہ تھا "تمہں یادہوگا"
بہت سے اجلے اجلے پھول لےکر____کوئ تم سے ملا تھا
یاد ہوگا؟
بچھی بھیں ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں_، کوئ آنسو گرا تھا _،یاد ہوگا
اداسی اور بڑھتی جارہی تھی_، وہ چہرہ بجھ رہا تھا یاد ہوگا
وہ "خط" پاگل ہوا کے آنچل پر
کسے تم نے لکھا تھا یاد ہوگا؟
مری "وفا" نے کھلاۓ تھے جو
گلاب سارے جھلس گۓ ہیں
تمہاری "آنکھوں" میں جس قدر تھے
وہ خواب سارے جھلس گۓ ہیں
پس کارواں سر راہگزر
میں ہارا ہوں تو اس
لیے_______ کہ قدم تو سب سے ملا لیا
میرا دل کسی سے ملا نہں
غم زندگی تیری راہ میں، شب آرزو تیری چاہ میں_!!
جو بچھڑ گیا وہ ملا نہیں
جو اجڑ گیا وہ بسا نہیں
میری
شناخت کے پتھر میں شکل باقی ہے____!!!
میرے وجود کے "ریزوں" میں
کوئ زندہ ہے__!!!
وقت____ کے دھند میں دھندلا گۓ "روشن چہرے"
ہر خوشی "درد" کے پہلوں میں پلا کرتی ہے
ایسے "زخموں" کا کیا کرے کوئ___!
جن کو مرہم سے آگ لگ جاۓ
نقش آئینۂ دل سے مٹا دیتا ہے
میرا محبوب مجھے کیسی سزا دیتا ہے
عم سے آزاد اگر میں کوئ سپنا دیکھوں!
دے کے دستک مرے در پہ وہ جگا دیتا ہے
تیرا ___وجود __رواجوں _کہ ____اعتکاف __میں ____ہے___
میرا وجود
تیرے
ع___ ___ش ___ق__ میں ہے!
وہ مجھ کو سونپ گیا فرقتیں
دسمبر____________ میں!
درخت جاں پہ وہی سردیوں کا موسم ہے
تری______________جدائ سے ہوا ہے "عشق حنوط"
کہ اس جہاں پہ وہی سردیوں کا موسم ہے!!
وہ ہاں؟ کریگی بہاروں میں اس کا وعدہ تھا____ اس کی "ہاں" پہ وہی سردیوں کا موسم ہے
ہر ایک سمت پگھلنے لگے ہیں سناٹے```ترے بیاں پہ وہی سردیوں کا موسم ہے````
جہاں جہاں تری خوشبو کے رنگ بکھریں ہیں
وہاں وہاں پہ وہی سردیوں کا موسم ہے
گل زباں پہ وہی سردیوں کا موسم_______ہے
تمہاری ہاں؟
پہ وہی سردیوں کا موسم ہے"
یہ ایک ہم کہ نئ بولیاں سدا بولیں_____!!
تری زباں پہ وہی سردیوں کا موسم ہے
پتھر پتھر جوت جلےگی ساحل___ ساحل___ شعلے ہوگے
بھیگی بھیگی سرد ہوا میں شرماۓ گا "ٹھنڈا ہاتھ
بھیگی پلکیں سوچ کی الجھن دامن تھامے پوچھ رہی ہیں__؟__ کب تک تار گریباں جاناں سلجھاۓ گا "ٹھنڈا ہاتھ"
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain