ضبط کا عہد بھی ہے، شوق کا پیمان بھی ہے عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا اور سکوں ایسا کہ مرجانے کو جی چاہتا ہے
ہر لوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے کس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے مجھ کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہمنام تیرا کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے دل تو پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے