سنو ! میں نے عشق کو استعفیٰ دے دیا ھے ابھی ظالم نے میرے ٹوٹے دل کے آگے دھرنا جو دے دیا تھا ☝
یوں دیکھنا اس کو کہ کوئی اور نہ دیکھے انعام تو اچھا تھا مگر شرط کڑی تھی
پھولوں کی نمائش میں اگر وہ بھی ہوا تو اک بار گلابوں کو بڑی آگ لگے گی
بڑے سکون سے رخصت تو کردیا اس کو پھر اس کے بعد محبت نے انتہا کردی1
تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں مرا تن مور بن کر ناچتا ہے