ہمارا جنم دن اور استاد محترم کا شعر،
ہماری پچیس سالہ زندگی کی عکاسی
اک یقیں نے ان گنت کاٹے ضرورت کے سفر،
مشکلیں جتنی بھی آئیں حوصلے بڑھتے گئے۔
ان کو ٹھکرا کے آ گئے آخر
آپ قائل تھے جن کی باتوں کے
عبید رضا عباس
کہ ہوشیار کیا ہے کچھ آپ جیسوں نے
عبید آپ کی چالوں میں آ نہیں سکتا
دیتا نہیں جواب جو سن کر کے میری بات
اس کے سوالوں سے ہی قباحت مجھے بھی ہے
سجل کانپوری
سامنے ہیں جمال پرور لوگ
تذکرہ بس ترے جمال کا ہے
ع ر ع
ذہن سو الجھنوں میں الجھا ہے