دل سے یا گلستاں سے آتی ہے تیری خوشبو ۔۔۔۔ کہاں سے آتی ہے کتنی مغرور ہے نسیمِ سحر شاید اُس آستاں سے آتی ہے خود وہی میرِ کارواں تو نہیں بوئے گل ۔۔۔۔ کارواں سے آتی ہے اُن کے قاصد کا منتظر ہوں میں اے اجل ۔۔۔۔ تُو کہاں سے آتی ہے ہو چکیں آزمائشیں اتنی شرم اب ۔۔۔ امتحاں سے آتی ہے عین دیوانگی میں یاد آیا عقل عشقِ بُتاں سے آتی ہے تیری آواز گاہ گاہ اے دوست پردہء سازِ جاں سے آتی ہے شکوہ کیسا کہ ہر بلا اے دوست جانتا ہوں کہاں سے آتی ہے دل سے مت سرسری گزر کہ رئیسؔ یہ زمیں آسماں سے آتی ہے Raees Amrohawi
A Ghazal of Pakistan's Great Poet "Jaalib" یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے جالبؔ چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
جب ترے نین مسکراتے ہیں زیست کے رنج بھول جاتے ہیں کیوں شکن ڈالتے ہو ماتھے پر بھول کر آ گئے ہیں جاتے ہیں کشتیاں یوں بھی ڈوب جاتی ہیں ناخدا کس لیے ڈراتے ہیں اک حسیں آنکھ کے اشارے پر قافلے راہ بھول جاتے ہیں