سوتے ہوئے کبھی کبھی اچانک سانس بند ہو جاتی ہے. آپ لاکھ کوشش کریں ہاتھ پیر نہیں چلا پاتے اسے sleep paralysis کہا جاتا ہے. مجھے نہیں پتہ اردو میں اسے کیا کہتے ہیں. لیکن یہ بندے کو اس کی بے بسی یاد دلا دیتی ہے. اکثریت کو زندگی میں کبھی نہ کبھی اپنی جھلک دکھا چکی ہوتی ہے. بے بسی تو شیر خوار بچے کے رونے میں بھی ہے. وہ جو ضرورت، طلب تکلیف رکھتے بھی بیان نہیں کر سکتا. تب وہ رونے لگتا ہے. لیکن اس وقت وہ مہربان ماں کی گود میں ہوتا ہے. ماں بچے کیلئے لفظوں کی ترجمان بن جاتی ہے. کل کی اُمید زندگی کو بے بسی سے نکال لیتی ہے. جنگ کو امن، بیمار کو شفا بچے کو جوانی اور بھوکے کو رزق مل جاتا ہے. البتہ دنیا سے جو ہمارے چلے جانے والے لوگ ہوتے ہیں ان کی بے بسی عجیب ہوتی ہے. ایک طرف اعمال سامنے ہوتے ہیں. دوسری طرف محشر کا انتظار ہوتا ہے.